امریکی صدر کے نسل پرستانہ فیصلے کے خلاف عالمی سطح پر مخالفتوں کا سلسلہ جاری.

01 فروری, 2017 00:00

امریکی وزارت خارجہ کے تقریبا نو سو سینیئر افسران نے ایک بیان پر دستخط کئے ہیں جس میں بعض اسلامی ملکوں کے شہریوں کو امریکا کا ویزا نہ دینے کے ٹرمپ کے حکم پر شدید تنقید کی گئی ہے – ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یہ بیان امریکی وزارت خارجہ کے اعلی حکام کو پہنچ گیا ہے – اس درمیان وہائٹ ہاؤس کے ترجمان شان اسپائیسر نے اس سلسلے میں کہا کہ انہیں اس تحریری بیان کا علم ہے لیکن ان سفارتکاروں پر واضح کردیا گیا ہے کہ وہ یا تو صدر ٹرمپ کے حکم کی پیروی کریں یا وزارت خارجہ سے چلے جائیں – واشنگٹن کے اٹارنی جنرل کارل راسین نے بھی کہا ہے تارکین وطن اور مسلمانوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کا ایکزیکیٹیو آرڈر غیرقانونی اور نسل پرستانہ ہے – انہوں نے کہا کہ بنیادی آئین کے مطابق جو بھی غیر ملکی امریکا کا سفر کرنا چاہتے ہیں اور امریکا پہنچتے ہیں ان سے بلاتفریق قوم و مذہب آئین کے مطابق یکسان اور مساوی سلوک کیا جانا چاہئے لیکن ٹرمپ کا حکم امریکا کے آئین کی اس شق کے منافی ہے – اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹینیو گوتریش نے بھی اپنے ایک بیان میں سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آنکھ بند کرکے کیا گیا ہے اور یہ حکم امریکا کی سیکورٹی کے تعلق سے ہر قسم کی مناسب اطلاعات و معلومات سے عاری ہے – یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر کے اس نسل پرستانہ حکم کے خلاف دنیا کے مختلف ملکوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ہرروز وسیع تر ہوتا جا رہا ہے – یورپی کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹاسک نے بھی کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ یورپی بلاک کے لئے ایک خطرہ ہیں – انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو متعدد خطروں کا سامنا ہے اور ان خطروں نے یورپ کے لئے صورتحال کو پہلے سے بھی زیادہ نازک بنادی ہے- یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپی حکام نے پہلی بار امریکا کا نام ایک خطرے کے طور پر لیا ہے – دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے یورپی یونین سے الگ ہونے کے برطانیہ کے فیصلے کی تعریف اور تارکین وطن کے بارے میں امریکی حکومت کی پالیسیوں کی انتہا پسند قوم پرستوں کے ذریعے کی جانے والی حمایت نے یورپی یونین میں اس تشویش کو بڑھا دیا ہے کہ امریکی صدر یورپی یونین کا شیرازہ بکھرنے یا کم سے کم اس کے کمزور ہونے کی حمایت کررہے ہیں – اسی تشویش کے پیش نظر یورپی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلوں پر تنقید اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یورپی ممالک ٹرمپ کے ہر طرح کے غیر سنجیدہ اقدام کا مقابلہ کرنےکے لئے اپنے اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں –

11:19 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top