مقالہ جات

شام جنگ اور روس ایران تعلقات کی صورت حال

شام پر مسلط کردہ جنگ کی حقیقت اور اس کے پس منظر کو اگر سمجھنے کی کوشش کی جائے اور غیر جانب دارانہ نظر سے اس پوری صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ دنیا اب امن کی طرف نہیں تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے دو بڑی طاقتوں روس اور امریکہ کی اس مشرق وسطی کی جنگ پر باہمی صورت حال نہایت کشیدہ ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ پوری دنیا میں وفاداریاں تبدیل اور دوستیوں کے تقاضے بدلتے جا رہے ہیں ماضی میں جب ایران کے عظیم راہنما امام خمینی نے اس وقت کے روس کے صدر گوربا چوف کو جو خط لکھا تھا اس خط میں یہ اشارہ موجود تھا کہ بلاخر ایران اور روس ایک دوسرے کے قریب ہونگے اور مستقبل اسلام کا ہی ہو گا ،انہوں نے امریکہ کو اس طرح کا کوئ پیغام نہیں دیا تھا بلکہ اسے شیطان بزرگ اور اسلام محمدی کے مقابلے میں ایک نیا اسلام لا کر مسلمانوں کو لڑانے والے ملک کے طور پر امریکہ کی نشان دہی کی تھی اور اسے مسلمانوں کا کھلا دشمن قرار دیا تھااور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا اشارہ دیا تھا جبکہ اسرائیل کو اس کا بغل بچہ کہہ کر پکا را تھا اور اسرائیل کو تمام مسائل کی جڑ کہا تھا جو آج ثابت ہو چکا ہے
آج اس تناظر میں امن کے نقشے یا بدمنی کی صورت حال کو دیکھا یا سمجھا جا سکتا ۔ شام اس وقت سب کے درمیان ایک متنازعہ مسلہ بن چکا ہے امریکہ شام پر اپنا تسلط قا ئم کرنا چاہتا ہے تاکہ روس کی ترقی اور اسکے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو روک سکے اور مغربی دنیا کو قطرکے راستے سعودیہ اور پھر شام کے راستے ترکی پھر یورپ تک یہ گیس پہنچائی جا سکے اور دوسرا خطے میں ایران کی بڑھتی قوت کو کنٹرول کیا جا سکے اور اسرائیل کے سر سے حزب اللہ کے خطرے کو دور کیا جا سکے ۔
چنانچہ اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے روس اور ایران نے ایک دوسرے کے مزید قریب ہونے کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے اس صورت حال کی اہمیت کے پیش نظر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کےبین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے روس کے صدر پوتین کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لاورنتیف کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر پوتین کے خصوصی ایلچی صدر پوتین کا اہم پیغام لیکر تہران آئے ہیں اس وقت دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ولایتی نے کہا کہ روسی صدر کے خصوصی ایلچی نے صدر روحانی کے ساتھ ملاقات کے بعد ان سے ملاقات کی انہوں نے کہا کہ روسی صدر کے خصوصی ایلچی شام کے امور میں روس کے نمائندے بھی ہیں ان سے میری یہ چوتھی ملاقات ہے ۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اسٹراٹیجک ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ اور دونوں ممالک سیاسی، اقتصادی ، دفاعی ، علاقائی اور عالمی امور پر باہمی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام کے صدربشار اسد کا چند ہفتوں کے دوران تخۃہ الٹنے کا فیصلہ کیا تھا اور انھوں نے شامی حکومت کے خلاف دہشت گردوں کی بھی بھر پور مدد کی ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی سعودی عرب، قطر ترکی اور اسرائیل پانچ سال کے عرصہ میں بشار اسد کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکے ۔
ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ وہ چند ہفتوں میں بشار اسد کا خاتمہ کردیں گے لیکن شامی عوام اور حکومت نے ملکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مزموم منصوبے کو ناکام بنادیا۔ بشار اسد کی حمایت میں ایران اور حزب اللہ لبنان نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور پھر روس نے بھی بشار اسد کی حمایت کا فیصلہ کیا جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام میں شکست کا سامنا ہے جس کی تازہ مثال حلب شہر کی فتح ہے۔
اس وقت امریکہ اور اسکے اتحادی پھر سے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور وہ اس فتح کا بدلہ روس، ایران اور شام سے لینے کی تازہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں جس کا ایک اشارہ روسی سفیر کے ترقی میں قتل کی شکل میں دیا گیاہے چنانچہ اگر خطے میں یہ جنگ مزید تیز ہوتی ہے اور بڑی قوتیں مقابلے میں آجاتی ہیں تو نقشہ کچھ اور ہو گا اور حالات اسی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل دنیا پر منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔( اللہ خیر کرے)
( سبطین شیرازی)

متعلقہ مضامین

Back to top button