پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی کیسے رکے گی؟

31 اکتوبر, 2016 00:00

تحریر: عرفان علی

کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک گھر میں شیعہ مسلمان خواتین ایک مجلس عزا میں شریک تھیں۔ گھر کے مرد حضرات انتظامات کے سلسلے میں گھر کے باہر ہی جمع تھے۔ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد آئے، شیعہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر نشانہ بنایا اور بڑی آسانی سے فرار کر گئے۔ خواتین نے فائرنگ کی آواز سنی، کچھ باہر آئیں اور قریب رکھی کرسیوں سے دہشت گردوں کی مزاحمت کرنے لگیں۔ یوں چار مرد اور ایک خاتون شہید ہوئیں۔ شیعہ گھرانے کے سنی احباب بھی وہاں موجود تھے اور شہداء میں ایک سنی مسلمان بھی شامل ہے۔ یہ گھرانہ ایک مشہور و معروف ایسے ریستوران اور شادی ہال کے نزدیک آباد تھا، جو متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رہنما کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال کا ناقابل فراموش پہلو یہ ہے کہ جائے وقوعہ سے نزدیک ہی رینجرز تعینات ہیں۔ پولیس بھی اس جگہ سے دور نہیں۔ اس کے باجود اس بزدلانہ حملے کا ہوجانا پولیس اور رینجرز دونوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسلامی سال کے پہلے اور محترم مہینے محرم میں شیعہ نسل کشی پر مبنی یہ چوتھا بڑا حملہ ہے۔ معروف شیعہ عالم و ذاکر اہلبیت جناب علامہ طالب جوہری نے بجا طور پر اس موقع پر اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ میرے ملک میں ایک شیعہ لاش کے گرنے اور دوسرے شیعہ کے قتل کے درمیانی وقفہ کو ’’امن‘‘ کہا جاتا ہے!

مادر وطن پاکستان میں اندھیر نگری چوپٹ راج کی سی جو عملی صورتحال ہے، اس کے پیش نظر شیعہ مسلمانوں کے زعماء کو بہت پہلے ہی کسی حکمت عملی پر اتفاق کرکے اس پر عمل شروع کر دینا چاہیے تھا۔ کیا ایک ایسے ملک میں جہاں پارلیمنٹ میں موجود جماعت اور رکن قومی اسمبلی پر دفعہ 144 کا اطلاق کرکے گھر سے نہ نکلنے دیا جائے، آئین و قانون کو ماننے والی جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کو جمع ہونے سے روک دیا جائے، ان پر لاٹھی چارج کی جائے، آنسو گیس کی شیلنگ کی جائے اور اسی دن اسی شہر میں ایک کالعدم یعنی غیر قانونی دہشت گرد گروہ اور اس کے شیڈول چار میں نامزد مولوی کو نہ صرف یہ کہ جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی جائے بلکہ اس کو سرکاری سکیورٹی بھی فراہم کی جاتی رہے اور وہاں شیعہ کافر کے نعرے بھی لگائے جاتے رہیں، کیا ایسے ملک میں شیعہ علماء و زعماء، خواص و عوام کی کوئی ذمے داری نہیں بنتی۔؟ کیا بس وقتی طور پر احتجاج ہی اس مسئلے کا حل تسلیم کر لیا گیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ملک میں موجود شیعہ قائدین کھل کر سامنے آئیں اور بتائیں کہ ان کی پالیسی کیا ہے؟ کیا قلیل المدت و طویل المدت حکمت عملی کا بیان کافی ہے یا پھر حالات ہم سے اس سے زیادہ کا تقاضا کر رہے ہیں۔ کیا پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے علماء و خواص الگ الگ پلیٹ فارم سے اپنے ایسے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جو پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے مشترکہ مطالبات ہیں۔ کیسے ممکن ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ منقسم یعنی ٹولیوں میں بٹے ہوئے، گروہ در گروہ کی ذیلی تقسیم کے ساتھ ریاست پاکستان سے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوجائیں، ایسا کیوں کر ممکن ہے۔؟

ایک مثال پیش خدمت ہے۔ آج مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر شیرازی نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے دفتر خارجہ کی ایک خبر پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک ایسے حملے کی مذمت کی ہے جو ہوا ہی نہیں بلکہ آل سعود نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے جھوٹی خبر کو پھیلایا کہ مکہ پر ایک میزائل حملہ یمن سے کیا گیا۔ سرتاج عزیز نے یقین دلایا کہ وہ دفتر خارجہ سے وضاحت طلب کریں گے کہ بیان کیوں جاری کیا گیا۔ خبر کا ایک پہلو آل سعود کے نمک خواروں کی نالائقی ہے تو اس سے ایک اور سبق یہ ملتا ہے کہ شیعہ جماعتوں کے رہنما حکمران شخصیات سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ ملک میں جاری شیعہ نسل کشی پر بھی ایسی ہی خبر آنی چاہئے تھی کہ علامہ ساجد نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ حامد علی شاہ موسوی و دیگر صاحبان نے صدر، وزیر اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیر داخلہ، صوبائی وزرائے اعلٰی، گورنر، وزرائے داخلہ وغیرہ سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اعلٰی ترین عدلیہ سے لے کر صوبائی و ضلعی سطح کے جج صاحبان کو احتجاجی مراسلے بھیج کر از خود نوٹس لینے کی بات کی جاتی۔ لیکن صد افسوس کہ کسی تنظیم یا گروہ کی طرف سے ایسی کوئی خبر تاحال جاری نہیں ہوئی۔

میرے اس موقف سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ اگر یہ مجوزہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جا رہا تو احتجاج بھی ترک کر دیا جائے۔ میں نے ایسا ہرگز نہیں لکھا۔ احتجاج ہونا چاہیے اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی شیعہ موجود ہیں، وہ دیگر پاکستانی بھائیوں کے ساتھ مل کر پاکستانی سفارتی مشن کے باہر جمع ہوں اور وہاں بھی یادداشتیں پیش کریں۔ صرف سعودی عرب، بھارت اور جعلی ریاست اسرائیل کے سفارتی مشن کو مائنس کر دیں، یعنی وہاں کوئی شکایت داخل نہ کروائی جائے اور ان کے علاوہ جتنے بھی ممالک ہیں، سب کے سفارتی مشن پر پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی، اس کی تفصیلات اور تکفیری دہشت گردوں کو حاصل سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت یادداشتوں کے ساتھ لف کرکے پیش کی جائیں۔ جو شہید ہوئے ہیں، انہوں نے کار حسینی ؑ انجام دے دیا، اب کم از کم کار زینبی ؑ میں کوئی سستی و کاہلی نہ برتی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آگے کا بھی سوچا جائے۔

شیعہ قائدین، علماء و زعماء بشمول ان آقایان کے جن کے میں نے نام لکھے ہیں، سب سے پہلے وہ اپنے درمیان عشروں پر محیط فاصلوں کو کم کریں۔ پرانے اور بڑے، بڑے ہی ہیں، ان کا احترام بھی ضروری سمجھا جائے۔ یہ آقایان ایک جگہ جمع ہوں، مل کر بیٹھیں۔ وکلاء، آئینی و قانونی ماہرین، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور عسکری شعبہ کے خواص، حتٰی کہ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین بھی، یہ سب مل کر شیعہ نسل کشی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں، اس پر اپنی رائے پیش کریں، اس کے اسباب اور اس کا تدارک کیسے ہو، وہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔ پاکستان کی تاریخ کے اس نازک مرحلے پر وقت کا تقاضا یہی ہے کہ متحد ہوں، ملت تشیع پاکستان کی جانب سے مشترکہ لائحہ عمل سامنے آئے۔ درخواست یہ ہے کہ ملت مظلوم تشیع پاکستان کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔ جب تک ہم خود کسی جامع و فول پروف حل اور لائحہ عمل پر ایک نہیں ہوجاتے، عوام الناس سے کسی تعاون کی امید بھی نہ رکھیں، حالانکہ پاکستان کے غیرت مند شیعہ عوام نے ماضی قریب میں شیعہ قائدین کو مایوس نہیں کیا ہے، اس کے باوجود بغیر کسی واضح سمت میں حرکت کے عوام کو تھکانا بہتر پالیسی نہیں۔

میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کی شیعہ قیادت یکجا ہو، یعنی اتحاد کی صورت میں یکجائی ہو۔ ورنہ یک نکاتی اشتراک عمل ہو کہ شیعہ نسل کشی روکنے کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق و باہمی معاونت ہو۔ لیکن یہ سب ہو جائے تو پھر کیا ہو۔ جب آپ یہ سب کر لیں تو پھر ریاست پاکستان سے ایک مکالمہ کا آغاز کریں۔ رسمی مکالمہ۔ بجائے اس کے کہ آپ دفاعی اور معذرت خواہانہ موقف اپنائیں، آپ سر اٹھا کر ریاستی اداروں اور مقتدر شخصیات کی نالائقی و ناہلی کو اجاگر کریں۔ پاکستان کا بانی محمد علی جناح شیعہ اور شیعوں کی تکفیر کرنے والے کو ریاست کی سرپرستی؟ بھلے سہیل وڑائچ کا جملہ کہہ ڈالیں کہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ پاکستان کا نظریہ ساز علامہ اقبال جس کا خود کے بارے میں مولویوں کے درمیان نظریہ اس کی اپنی زبانی یہ تھا:
۔۔۔ کچھ اس میں تشیع کا بھی ہے رنگ ذرا سا
تفضیل علی ؑ ہم نے سنی اس کی زبانی!

وہ علامہ اقبال کہ جس کی آنکھوں کو مغرب کی چکاچوند روشنیاں صرف اس لئے خیرہ نہ کرسکیں کہ اس کی آنکھوں کا سرمہ خاک مدینہ و نجف تھا! ہم پاکستان کی ریاست میں اقبالیات کو مجسم و منور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ریاست ایسی ہی ہونی چاہئے کہ مدنی و نجفی ہو، دنیا یہاں سے تفضیل علی ؑ کو سنے۔ بولیں اور پوچھیں ریاست کے ان کارپردازوں سے کہ ایک کالعدم دہشت گر گروہ کے مولوی کو کس نے یہ یقین دہانی کروائی کہ فوج میں نعرہ حیدری نہیں لگے گا۔ بولیں ریاست سے کہ کراچی میں ہفتہ کی شام جب شیعہ شہید کئے گئے، اسی دن دوپہر سے سہ پہر تک کراچی کی مرکزی شاہراہ پر کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ کو ریلی نکالنے، دھرنا دینے کی اجازت کس آئین و قانون کے تحت دی گئی۔؟

ریاست پاکستان کے ان ذمے داروں سے مکالمہ کرکے کہا جائے کہ اب ہم دنیا بھر میں صرف ایک مطالبہ کریں گے کہ ایک شیعہ کافر محمد علی جناح کی قیادت میں بننے والے ملک پاکستان جس کا رسمی نام اسلامی جمہوریہ ہے اور محمد علی جناح اگر پاکستانیوں کے بلا تفریق بابائے قوم ہیں، بانی پاکستان ہیں تو پھر شیعہ کافر کا نعرہ لگانے والا ہر گروہ خود ایسا کافر ہے کہ جسے ریاست پاکستان کو پکڑنا چاہئے اور انہیں سرعام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے، تاکہ یہ تکفیری نعرہ پاکستان میں ہی دفن ہو جائے۔ ریاست پاکستان کے نالائق ذمے داروں سے مکالمہ میں کہا جائے کہ آئین پاکستان میں واضح لکھا جاچکا ہے کہ ہر مسلمان قرآن و سنت کی اپنی فقہ کے مطابق تشریح پر عمل کرنے میں آزاد ہے۔ ریاست پاکستان کے آئین میں لکھا جا چکا اور محمد علی جناح کا عزم تھا کہ ہم دنیا بھر کے مستضعفین کی حمایت کریں گے، ریاستی سطح پر اس شرط کے ساتھ کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی حدود کے اندر رہتے ہوئے یہ مدد کریں گے۔ مکالمہ میں شیعہ موقف کا متن ماہرین کی مشاورت سے ضبط تحریر میں لایا جائے، تاکہ کوئی پہلو رہ نہ جائے۔

بہت معذرت کے ساتھ عرض کر دوں کہ شیعہ قائدین، زعماء اور خواص، تاحال مفتی جعفر صاحب کے دور میں ہی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ وہ نکتہ آغاز تھا۔ ریاست کے ساتھ مکالمے میں آپ کو پاکستان کے ریاستی اداروں میں شیعہ نمائندگی کا بھی مطالبہ کرنا ہوگا۔ یہاں اتنے سخی لوگ ہیں کہ انہیں پاکستان کے ہندو چیف جسٹس پر بھی اعتراض نہیں تو شیعہ مسلمانوں کا کیا جرم ہے کہ وہ چیف جسٹس پاکستان بھی نہ بن سکیں۔؟ جب عراق میں اتنی نمائندگی یعنی نائب صدر، نائب وزیراعظم، اسپیکر اور وزراء کے عہدوں کے باوجود سنی عربوں کی احساس محرومی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے تو پھر پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کی احساس محرومی کا کیا عالم ہوگا کہ پارلیمنٹ میں ایک بھی نشست شیعہ مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی الیکشن کی سیاست ایسی ہے کہ جسے
level playing field کہا جاسکے۔ ڈریں نہیں اور کھل کر مطالبہ کریں کہ جیسے لبنان و عراق میں متناسب نمائندگی سنیوں کو حاصل ہے، بالکل اسی طرح پاکستان میں ہمیں قومی اسمبلی و سینیٹ اور حکومتی عہدوں میں حصہ بقدر جثہ نمائندگی دی جائے۔ صدر، وزیراعظم، اسپیکر کے عہدوں میں بھی اور دیگر ریاستی منصب میں بھی شیعہ پاکستانیوں کا حصہ ہونا چاہئے۔ علامہ سید ساجد نقوی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری دونوں ہی متناسب نمائندگی پر بیانات دیتے رہے ہیں، میں کوئی نئی بات نہیں کر رہا سوائے ریاست کے ساتھ رسمی مکالمہ کے۔

اگر آپ یہ سب نہیں کریں گے تو پھر بس سال میں ایک ہی مرتبہ ریاست کو آپ کی یاد اًئے گی، یعنی محرم میں آپ کے گلی محلوں کی صفائی ستھرائی ہوگی اور چونا لگایا جائے گا۔ اردو زبان میں چونا لگانا کسے کہتے ہیں، اس کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کر لیں کہ ریاست نے شیعوں کو چونا ہی لگانا ہے۔ (پس تحریر: جو لوگ میری تحریروں پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں صحافت و سیاست میں ستائیس سال کا تجربہ رکھتا ہوں۔ میرا کام یہی ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اگر ان تجاویز پر عمل کرنا بھی میرا ہی کام ہوتا تو کسی کے کہے بغیر کرچکا ہوتا اور اگر وہ لوگ جنہیں یہ کام کرنا ہے، وہ نہیں کرنا چاہتے تو پھر تنظیمیں بند کر دیں، مال امام، مومنین کا چندہ اور اس ملت کا وقت برباد نہ کریں، بہت شوق ہے تو اپنا پیسہ اس لاحاصل وقت گذاری پر لگائیں۔ بہت سے لوگوں کو مجھ سے پاکستان میں نظریاتی سمت معلوم کرنا تھی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا رد عمل آتا ہے؟)

7:12 صبح مارچ 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔