مقالہ جات

یمنی تحریک انصار اللہ کو غیر مسلح کرنے کی سازش

سبطین شیرازی
یمن کا مسئلہ اب جارح قوتوں کے لیے ایک بڑی مشکل کی شکل اختیار کر چکا ہے تقریباً 2 سال کے دوران سعودی اتحادی گروہوں اور امریکہ نے بھرپور کوشش کی کہ وہ ان حملوں اور مسلط کردہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کریں لیکن اس میں ان قوتوں کو سخت ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی تحریک انصاراللہ اور یمنی عوام بھرپور مذحمت اور مقاومت کے باعث سعودی افواج اندر سے اپنی شکست تسلیم کر چکی ہیں، ایک ظاہری حجاب باقی ہے جسے وہ اتارنا اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔ امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ اُن کا بھرم بھی رہ جائے اور مسئلہ کے حل کی کوئی ایسی راہ بھی نکل آئے جس سے امریکہ کچھ نہ کچھ اپنے لیے محفوظ راستہ کے ذریعے اپنے مقاصد میں کھلی ناکامی کا شکار نہ ہو، اس حوالے سے امریکہ میں موجود سعودی سفارت خانے کے امریکہ کے سامنے چار شقوں پر مشتمل ایک تجویز رکھی، یہ تجاویز جدہ میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد سامنے آئی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱)یمن کے دارالحکومت صنا اور دیگر اہم شہروں سے تحریک انصار اللہ کے مجاہدین کا انخلاء (۲) تحریک انصاراللہ اور اُس کے اتحادیوں کے میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں کو کسی تیسری فریق کے حوالے کیا جانا (۳) قومی حکومت کی تشکیل (۴) موجودہ حکومت کی طرف سے کسی قسم کے کسی ایسے ہتھیار کی تنصیب نہ کرنا جس سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہو، شامل ہیں۔ یہ تجاویز واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی ہیں۔
گویا انہی تجاویز کی روشنی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا جدّہ میں یہ بیان سامنے آیا کہ انصار اللہ کا میزائل پروگرام یمن کے پڑوسی ممالک حتیٰ کہ امریکہ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ یمن جنگ کو تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد اس طرح کی تجاویز کا سامنے آنا اس بات کی خبر دیتا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب اس جنگ میں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور یہ قوتیں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں اپنی منزل نہیں پا سکیں۔
یمن کی جنگ اب ایک بند گلی میں پہنچ چکی ہے کیونکہ انصاراللہ فوجی اور سیاسی میدان میں بھرپور طاقت کے ساتھ میدان عمل میں ڈٹی ہوئی ہے اور اس نے یمنی عوام اور یمن پارلیمنٹ کی حمایت سے اپنی کاروائیاں پھر سے شروع کر رکھی ہیں اور انصاراللہ کے اقدامات اور فیصلوں کی یمنی پارلیمنٹ نے توثیق بھی کر دی ہے۔ یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کی تشکیل اور تحریک انصاراللہ کی نقلابی کمیٹیوں سے اقتدار کو اعلیٰ سیاسی کونسل کے حوالے کرنا اور یمن کی پارلیمنٹ میں اس کی منظوری یمن کے سیاسی عوامی اور استقامتی گروہوں کی طرف سے طاقت کا بھرپور مظاہرہ ہے۔
یمن کی رضاکار عوامی کمیٹیوں اور یمن کی قومی کانگرس پارٹی کے ساتھ ہی ساتھ انصاراللہ سعودی عرب اور اس کے ایجنٹوں کے مقابلے میں میدان جنگ میں ڈٹی رہی اور نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ جان کیری نے جدّہ میں یمن کے بحران کے حل کے منصوبے کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا اور واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے اس سے پردہ ہٹا دیا یہ منصوبہ جو امریکہ اور سعودی عرب کی طرف سے یمن مسئلے کے حل کے لیے سامنے لایا گیا اس کے پس پردہ یمنی عوام کو اپنے دفاع کے حق سے محروم کرنا ہے۔
یمن کی عوامی استقامت نے سعودی عرب اور امریکہ کی جنگی مشینری کو اس ملک میں زمین بوس کر دیا ہے اب ریاض اور واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ہر وہ چیز جو وہ ممالک جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے اب ان مقاصد کو مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا جائے۔ سعودی عرب اور امریکہ کا اصل ہدف عوامی طاقت تحریک انصار اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے تاکہ یمنی عوام کا دشمنوں سے نمٹنے کا یہ قانونی حق سلب کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button