سانحہ شکار پور۔۔۔ اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

15 ستمبر, 2016 00:00

تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

حقیقت تلخ ہی سہی مگر ناقابلِ انکار ہوتی ہے، کائنات کی ایک بڑی سچائی یہ بھی ہے کہ لمحے غلطی کرتے ہیں اور صدیوں کو سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ اس عید پر پھر ہمارے وطن کی مٹی لہولہان ہوئی، شکار پور امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا، یہ حملہ دراصل سزا ہے ہماری ماضی کی ان غلطیوں کی، جو ہمارے حکمرانوں نے کیں، جب پاکستان کی قومی اور سرکاری فوج کے بجائے فرقہ پرست لشکروں کو بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، ایک مخصوص فرقے کو اسلحے سے لیس کیا گیا، جگہ جگہ عسکری کیمپ لگائے گئے اور سعودی عرب اور امریکہ کی سرپرستی میں جہاد کا دھندہ شروع کیا گیا۔ ان امریکی اور سعودی حمایت یافتہ جہادی کیمپوں کی تربیت یافتہ نسل اب پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے، یہ لوگ پاکستان کو کافرستان، پاک فوج کو ناپاک فوج، قائداعظمؒ کو کافر اعظم اور پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمانوں و غیر مسلموں کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔

شکار پور سے گرفتار ہونے والے عثمان نامی دہشت گرد کے بقول وہ کوئٹہ کا رہائشی ہے اور اس کے ساتھ دوسرا حملہ آور بھی کوئٹہ کا ہی تھا۔ ملزم عثمان کے مطابق وہ عید سے ایک روز پہلے اپنے دوست کے ہمراہ بلوچستان سے شکار پور آیا اور وہاں اس نے ایک ہوٹل میں ایک دن قیام کیا۔ جس کے بعد عمر نامی شخص اس سے ملا، جس نے اسے خودکش جیکٹ پہنائی اور موٹر سائیکل پر سوار کرکے مطلوبہ ہدف امام بارگاہ تک چھوڑا۔ اس کارروائی کو ناکام بنانے میں جن سول اور سرکاری لوگوں نے اپنی جان کی بازی لگائی، وہ سب کے سب ہمارے محسن ہیں اور ان سب کی عظمت کو ہزاروں اور لاکھوں سلام ہوں۔ یقیناً اپنی مادر وطن کے دشمنوں سے لڑتے ہوئے جان قربان کرنا اور ملک و ملت کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنان ایک عظیم سعادت ہے۔ اس عظیم سعادت کو سراہنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کا علاج چند حملوں کو ناکام بنانے یا چند دہشت گردوں کو گرفتار یا ہلاک کرنے سے ممکن نہیں ہے۔

دہشت گردی کا یہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رک سکتا، جب تک ہمارے حکمران سابقہ حکمرانوں کی غلطیوں کی تلافی کرنے میں سنجیدہ نہیں ہو جاتے۔ اگر ہمارے حکمران سابقہ حکومتوں کی غلطیوں کا ازالہ کرکے اس ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا عزم کریں تو پھر انہیں بلاتفریق مذہب و مسلک ان تمام مدارس کا صفایا کرنا پڑے گا، جن میں پاکستان دشمنی بطورِ نصاب پڑھائی جاتی ہے، ان تمام تنظیموں اور نیٹ ورکس کو توڑنا پڑے گا، جن کا ہدف پاکستان کو توڑنا ہے۔ اس وقت ہمارے دشمنوں نے ہمارے ملک کا محاصرہ کیا ہوا ہے، ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات کس نوعیت کے ہیں، وہ سب جانتے ہیں اور اب افغانستان اور ہندوستان کے تعلقات بھی اپنے عروج کو چھو رہے ہیں۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسی ہفتے میں افغان صدر اشرف غنی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ہونے والی ملاقات میں ہندوستان اور افغانستان کے مابین انٹیلی جنس شئیرنگ اور باہمی اسٹریٹجک تعاون کو پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں ملکوں میں مطلوب دہشت گردوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پایا ہے نیز سول اور کمرشل شعبوں میں تعاون سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں اور افغان حکومت کی مدد کے لئے بھارت نے ایک ارب ڈالر کا قرضہ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرانی باتوں کو چھوڑیں ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کو دورہ سعودی عرب کے دوران، سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ ملک سلمان کی طرف سے سعودیہ کا سب سے بڑا سول ایوارڈ “شاہ عبدالعزیز“ عطا کیا گیا ہے۔ ایک طرف کشمیر میں بہتے ہوئے لہو کا شور سنیں اور دوسری طرف سعودی عرب کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کا موازنہ کریں۔

اس وقت دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہماری ملکی سلامتی کے ضامن ادارے فوری طور پر دہشت گردی کے مراکز پر ہاتھ ڈالیں، اسی طرح میڈیا کے ذریعے لوگوں میں بھی اس شعور کو پھیلانے کی ضرورت ہے کہ لوگ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ جہاں بھی کسی دہشت گردی کی تربیت کرنے والے مدرسے، تن یا کسی کالعدم تنظیم کے سرگرم ممبر کا سراغ پائیں تو فوراً سرکاری اداروں کو آگاہ کریں۔ اس کے لئے خود فوج اور پولیس نیز پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو عوام دوستی کے ساتھ عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سانحہ شکار پور کی طرح ہم سب سول اور سرکاری لوگ اپنے وطن کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لئے متحد ہوجائیں تو دشمنوں کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔

5:27 صبح جون 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔