صحابی رسول ؐ حضرت ابوذر غفاری کی عالم غربت میں وفات کیوں ہوئی؟
شیعیت نیوز: پیغمبر(ص) نے فرمایا: اے ابوذر! تم اکیلے زندگی گزارو گے، اور اکیلے میں موت آئے گی، اور اکیلے مبعوث ہو گے اور اکیلے جنت میں داخل ہو گے. اور تمہاری وجہ سے، خوش قسمت ہوں گے عراق کے وہ لوگ جو تمہیں غسل و کفن اور دفن کریں گے. تفسیر قمی، ج١، ص٢٩٥. ابوذر ذی الحجہ سنہ٣٢ھ ق اورخلیفہ سوئم عثمان بن عفان کی خلافت کے زمانے میں ربذہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئےابن کثیر کہتا ہے: موت کے وقت اس کی بیوی اور بچوں کے علاوہ کوئی اس کے پاس موجود نہ تھازرکلی کہتا ہے: وہ اس حال میں دنیا سے گیا کہ گھر میں کچھ نہ تھا کہ اسے کفن دے سکیں مہران بن میمون بیان کرتا ہے: جو کچھ میں نے ابوذر کے گھر دیکھا اس کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی. بیان ہوا ہے کہ جب ام ذر روتی تھی اور اپنے شوہر سے کہتی تھی: تم جنگل میں مر جاؤ گے اور میرے پاس کوئی کپڑا نہیں کہ تمہیں کفن دے سکوں، ابوذر اس سے کہتا: رو نہیں اور خوش ہو. چونکہ ایک دن رسول خدا(ص) نے لوگوں کے درمیان جہاں پر میں بھی موجود تھا فرمایا: تم میں سے ایک فرد جنگل میں اس دنیا سے جائے گا اور مومنین کی ایک جماعت اسے دفن کرے گی. اور وہ تمام لوگ جو میرے ہمراہ اس محفل میں تھے وہ شہر میں اور تمام لوگوں کے سامنے اس دنیا سے رخصت ہوئے اور پیغمبر(ص) نے میرے بارے میں فرمایا ہو گا الحلحال بْن دري الضبي کہتا ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعود کے ساتھ حج پر جارہے تھے کہ ہم نے ربذہ میں ابو ذر کے جسد کو دیکھا تو ہم نے اسے غسل و کفن دیا اور دفن کیا،سب منابع کے قول کے مطابق، ابوذر کی قبر ربذہ میں ہے.
امام علی(ع) کا ابوذر کو ربذہ کی جانب جلا وطنی کے وقت خطاب:”
اے ابوذر! تم نے خدا کی خاطر غصہ کیا ہے، لہذا اسی ذات پر امید رکھنا جس کی خاطر غصہ کیا ہے. یہ لوگ اپنی دنیا میں تم سے خوفزدہ ہوئے، اور تم کو اپنے دین کی خاطر ان سے ڈر ہے. لہذا جس چیز کی خاطر وہ تم سے ڈرے ہیں، وہ چیز ان کے لئے چھوڑ دو. اور جس وجہ سے تم ان سے ڈرے ہو اس کو ان سے دور لے جاؤ. تم نے جس کام سے انکو روکا ہے، انکو اسکی کتنی ضرورت ہے، اور تم کتنے بے نیاز ہو اس سے جس سے وہ تمہیں روکتے ہیں. تمہیں بہت جلدی پتا چل جائے گا کہ کل اس کا نفع کس کو ملے گا، اور جس کو اس کا زیادہ نقصان ملے گا، وہ کون ہو گا. اگر آسمانوں اور زمین کو کسی انسان کے لئے بند کیا جائے، لیکن وہ خدا سے ڈرے، اس کے لئے وہ دونوں کھلے ہیں. خدا خود تمہارا مونس اور مددگار ہے، اور سوائے باطل کے تمہیں نہیں ڈرا سکے گا. اگر تم ان کی دنیا کو قبول کرتے وہ تم سے دوستی کرتے، اور اگر ان کی خاطر قرض لیتے تو ان کو سکون ملتا.”نہج البلاغہ، ترجمہ شہیدی، خطبہ ۱۳۰، ص۱۲۸-۱۲۹
واضح رہے کہ خلیفہ سوئم کے دور میں حضرت ابوزر غفاری ؒ جیسے جلیل و قدر صحابہ کی جلاوطنی اور عالم غربت میں انکی شہادت کی داستان اسلامی تاریخ میں ایک بدنما داغ ہے ۔








