فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں شدت
فلسطینی مسلمانوں کے خلاف صیہونی فوجیوں کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے علاقے "الخلیل” میں تین فلسطینی شہریوں کے گھروں کو صیہونی فوجیوں نے مسمار کر دیا۔ بدھ کے روز کی جانے والی اس تخریبی کاروائی میں ایک تعلیمی مرکز کو بلڈوزروں کے ذریعے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ چند ماہ کے دوران صیہونی فوجیوں نے بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمانوں کے مکانات مسمار کئے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں مکانات کی مسماری اور لوگوں کا جبری انخلا، قدس شریف کے اسلامی تشخص کو ختم کر کے اس کو یہودی بنانے کی غرض سے انجام پا رہا ہے۔ دوسری جانب صیہونی فوجیوں نے نابلس اور بیت اللحم میں کارروائی کر کے متعدد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ غزہ سے بھی اطلاعات ہیں کہ صیہونی فوجیوں نے ٹینکوں کے ساتھ جنوبی غزہ میں رفع شہر تک پیشقدمی کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ صیہونی حکومت نے پچھلے دو روز کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر ہوائی حملے بھی کئے ہیں۔ واضح رہے کہ سن دو ہزار چودہ کی پچاس روزہ جارحیت کے بعد اسرائیل نے مصر کی وساطت سے فلسطینیوں کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کئے تھے








