فرانس حملہ !! ! خود اپنے ہی دام میں صیاد آ گیا
آپ نے یہ کہاوت یا محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ جو واقعا حقیقت پر مبنی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کسی کے لئے گڑھا کھودو گے تو خود اس گڑھے میں جا گرو گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ ابو جہل نے پیغمبر اکرم حضرت محمد (ص) کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایک گڑھا کھودا لیکن انجام کیا ہوا کہ خود اس گڑھے میں جا گرا ، اسی طرح کہا جاتا ہے کہ کسی اور کے لئے برا سوچو یا کوئی سازش کرو کہ جس سے دوسرے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو مکافات عمل ہے کہ وہ برائی گھوم کر سازش کرنے والوں کے سامنے آ جاتی ہے۔
درج بالا مثال کو پڑھ کر آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں ؟ یقیناًمیرا اشارہ حالیہ دنوں فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کی طرفہ ے کہ جس میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے اور سیکڑوں ہی زخمی ہوئے ہیں۔پوری دنیا میں جیسے کھلبلی ہی مچ گئی ہر طرف سے شور و غل اٹھنے لگا کہ ہائے پیرس میںقیامت بپا ہو گئی ، جی ہاں بالکل قیامت ہی بپا ہوئی اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئیے کہ پیرس حملوں میں مارے جانے والے بھی اسی طرح مظلوم ہیں جس طرح سر زمین فلسطین کے باسی سنہ1948ء سے اب تک صیہونی دہشت گردی کا نشانہ بنتے چکے آ رہے ہیں، پیرس حملوں میں لقمہ اجل بن جانے والے یقیناًدہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں لیکن دنیاکو یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ انہی حملوں سے دو روز قبل ہی لبنان کے دارلحکومت میں بھی دو خود کش حملے ہوئے کہ جہاں پچاس سے زائد بے گناہ جانیں لقمہ اجل بنیں، ایسے بھی بچے یتیم ہوئے کہ جن کے ماں اور باپ ان حملوں میں چل بسے، آج جو کچھ یمن میں ہو رہاہے وہ بھی مظلومیت کی کھلی داستان ہے، جو کچھ غزہ کے ساتھ گذشتہ نو برس سے کیا جا رہاہے اس ظلم کی داستان بھی شاید دنیا میں کہیں نہ ملے، جو کچھ حالیہ دنوں میں فلسطین کے شہر القدس میں ہو رہاہے کون ہے جو اس سے با خبر نہیں؟ جو کچھ عراق میں ہوایا آ ج بھی ہو رہاہے کون اس حقیقت سے انکار کرے گا، افغانستان کو جس دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اسے کیسے بھلایا جا سکتاہے، کویت کو بھی اسی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، خود پاکستان کے شہروں کراچی، لاہور، کوئٹہ، پاراچنار، گلگت بلتستان کو بھی صیہونی اور تکفیری دہشت گردی کاشکار بنایا گیا ہے، شام کی صورتحال کیا ہے؟ شام میں تو دنیا بھر کے ستر ممالک سے لا لا کر دہشت گردوں کو صرف اس مقصد کے لئے آباد کیا گیا کہ دہشت گردی اور بربریت کے ذریعے ایک طرف تو معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلا جائے تو دوسری جانب اسلام کے خوش نما چہرے کو بد نما چہرہ بنا کر ایک ایسی بد نما اسلامی ریاست کی تشکیل دی جائے جس کا قبلہ اور کعبہ امریکہ اور اسرائیل اور اسی طرح یورپ ہوں۔
جیسا کہ ذکر ہو اکہ ستر سے زائد ممالک کے جنگجوؤں کو باقاعدہ شام میں لا کر صرف دہشت گردی کرنے کی ترغیب دی گئی ، ان ستر ممالک میں فرانس بھی ایک ایسا ہی ملک ہے کہ جس نے نہ صرف ان دہشت گردوں کو یہان بھیجنے میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ ان دہشت گردوں کی مالی و مسلح معاونت بھی کی، آپ سوچیں گے کہ فرانس کس طرح ان دہشت گردوں کی مدد کرتا رہاتو زیادہ دور کی بات نہیں چندماہ پیچھے چلے جائیے اور مشاہدہ کیجئے کہ کس طرح فرانس نے بھاری مقدار میں سعودی حکمرانوں کے ساتھ اسلحہ کی ڈیل کی ہے اور یہ سارا اسلحہ بعد میں کسی نہ کسی طریقے سے شام پہنچتا رہاہے ، جن ستر ممالک کا ذکر خود اقوام متحدہ ویب سائٹ پر بھی کیا گیا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کی مدد کر ہی ہیں ان میں سعودی عرب، بحرین، تیونس، مصر، ترکی، قطر، امارات سمیت یورپی ممالک میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر سر فہرست رہے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں اور حکومتوں کی ملی بھگت سمیت ستر عرب اور یورپی ممالک کی منصوبہ بندی کے تحت وجود میں لائے گئے دہشت گرد تکفیری گروہ کہ جن میں داعش، النصرہ اور دیگر شامل ہیں ان کو فرانس سمیت تمام عالمی استعماری قوتوں نے بھرپور حمایت جاری رکھی ، ان دہشت گرد گروہوں کو طاقتور بنانے کے لئے جد ید ترین اسلحہ اور بھاری مالی امداد دی جاتی رہی یہاں تک کہ ان دہشت گرد گروہوں کو اس بات کی تربیت دی گئی کہ وہ عراق اور لیبیا سمیت دیگر ممالک میں موجود تیل کیذخائر پر قابض ہو جائیں اور بعد میں صیہونی اسرائیل اور یورپی کمپنیوں کی مدد سے اسی تیل کو اسرائیل کو کم دام میں فروخت کیا جانے لگا، غرض یہ کہ عالمی شیطانی طاقتوں بشمول امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے دیگر عرب اور یورپی ستر ممالک بالخصوص فرانس کے ساتھ مل کر ان گروہوں کی بھرپور آبیاری کی اور ان دہشت گردوں نے شام میں بڑے پیمانے پر خون کی ہولی کھیلنے کے بعد عراق کو اگلا ہدف قرار دیا، اسی طرح خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ افغانستان کو بھی ہدف قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں بھی داعش کے ساتھ منسلک تکفیری عناصر کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے کاروائیاں بر وقت عمل میں لائی گئی ہیں ۔
یہاں قابل غور بات تو یہ ہے کہ مغربی سامراج نے عرب بادشاہتوں کو اپنے ساتھ ملا کر جہاں غاصب اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش میں پورے غرب ایشیا کو آگ و خون میں غلطاں کر دیا اب حالات کی کروٹ یہ بتا رہی ہے کہ وہ آگ خود مغرب کے دامن تک جا پہنچی ہے کہ جسے بجھانا شاید ابان کے بس کی بات نہیں رہا ہے، چار سال تک شام میں آگ و خون کی ہولی کھیلنے والے یہ امریکی ، اسرائیلی اور یورپی حمایت یافتہ دہشت گرد مغرب کے عزائم کو کامیاب نہ بنا سکے کیونکہ ان کے مقابلے میں شامی افواج اور حزب اللہ نے سینہ سپر ہو کر ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا، اپنی شکست کے بعد بالآخر ان تکفیری دہشت گردوں نے راہ فرار کو ہی اختیار کیا،چند ماہ قبل آپ نے یہ خبریں بہت سنی ہوں گی کہ شام کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر ہجرت ہو رہی ہے آخر اس ہجرت کی اصل داستان کیا تھی کسی ذرائع ابلاغ نے شاید غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ آخر کیوں یورپ اور فرانس تو سرفہرست تھا جو اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ ہم شامی مہاجرین کو پناہ دیں گے، اس ہجرت کی آڑ میں شکست خوردہ دہشت گرد ترکی کے راستے سے فرار ہو رہے تھے اوران میں سے کچھ ترکی میں پناہ لے کر رک گئے اور کچھ نے فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک جرمنی اور اٹلی سمیت متعدد مقامات کا رخ کر لیا۔در اصل یورپ کی طرف سے شامی ہجرت کے مسئلہ کو بڑھا چڑھا کر بھرپور حمایت کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اپنے ہی بھیجے گئے ان دہشت گردوں کو کسی طرح سے محفوظ واپس بلا لیا جائے اورا س حوالے سے یورپ کامیاب رہا۔
آج دنیا میں ہر طرف سامری بین بجاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور سب نے ایک شور و غل لگا رکھا ہے کہ ہائے پیرس میں قیامت آ گئی ، سوال یہ ہے کہ یہ قیامت کس نے ایجاد کی ہے؟ کیا اس قیامت کو بپا کرنے میں کسی بیرونی قوت کا ہاتھ کارفرما ہے یا یہ کہ جس دہشت گردی اور خون کی ہولی کھیلنے والے تکفیری دہشت گردوں کو فرانس سمیت دیگر سامراجی قوتوں نے شام، عراق، لبنان، یمن، لیبیا، مصر، پاکستان، افغانستان اور دیگر مقامات پر فری ہینڈ دے رکھا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسروں کے لئے کھودے جانے والے گڑھے میں فرانس تو گر ہی چکا ہے ، اب شاید دوسرے بھی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوں گے، مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ شام اور عراق میں شکست خوردہ ان تکفیری دہشت گردوں نے جن جن ممالک میں پناہ لی ہے وہاں انہوں نے اب اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے ، شاید یا تو وہ اپنے آقاؤں سے ناراض ہیں یا پھر یہ کہ دنیا کی توجہ بنیادی ترین مسائل کہ جن میں مسئلہ فلسطین سر فہرست ہے سے ہٹا کر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ناپاک عزائم کی تکمیل کر رہے ہیں،ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے کہ ترکی میں بھی اس نوعیت کے خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا ہ، چند روز قبل ترکی کی سیکورٹی فورسز نے ایک آپریشن میں خود کش حملہ آور کو ہلاک بھی کیا، اسی طرح بیروت تو مسلسل اسرائیلی اور سعودی گٹھ جوڑ کی سازشوں کانشانہ بنتا رہاہے، پاکستان بھی انہی سازشوں کی زد میں ہے، افغانستان کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے باضمیر اور حریت پسند لوگ ان دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے تمام حکمرانوں کے خلاف بلا تفریق اٹھ کھڑے ہوں اور انسانیت کی بقاء اور تحفظ کے لئے عالمی سامراجی قوتوں امریکہ، اسرائیل ، برطانیہ ،فرانس، جرمنی، اٹلی، اور دیگر چھوٹی بڑی یورپی اور عرب بادشاہتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا جائے تا کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کو امن میسر�آ سکے۔
پیرس حملوں کو محرکات جو بھی ہوں، تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ فرانس حکومت روز اول سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت میں اندھی ہو رہی تھی تاہم اب ایسا لگ رہاہے کہ فرانس حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے باعث دلدل میں پھنستی چلی جا رہی ہے اور جیسا کہ شعر کا ایک حصہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’خود اپنے ہی دام میں صیاد پھنس گیا‘‘ فرانس حکومت کے لئے ٹھیک ثابت ہو رہا ہے۔
حالیہ موصول ہونے والی اطلاعات کہ جن میں کہا جا رہاہے کہ فرانس اب شام میں داعش تکفیری دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے گا تو اس حوالے سے ماہرین سیاسیات کایہ بھی کہنا ہے کہ فرانس جو پہلے ہی اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گر چکا ہے اب ایک اور بڑی اور احمقانہ غلطی کو دہرانے جا رہاہے جس کے باعث فرانس کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی موجود ہے اور ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ شاید ان حملوں کا مقصد بھی 9/11کی طرح ایک سوچی سمجھی امریکی وصیہونی سازش کا نتیجہ ہے کہ فرانس کو روس کے مقابلے میں براہ راست شام میں لا کھڑا کیا جائے ، بہر حال سیاسی منظر نامہ کچھ بھی ہو عام فہم ذہن تو صرف یہی سمجھ پایا ہے کہ ’’خود اپنے ہی دام میں صیاد آ گیا‘‘۔








