ایک ایسے شھید کی سچی داستان جس کی دعا کو اللہ نے دنیا میں قبول کیا
شھید حامد سروی ایک دینی مدرسے کا نوجوان شھید تھا، جسے شھادت کا شوق تھا!
جب سے اِس سے محاذِ جنگ میں جانے والے دفتر مین اپنے نام کا اندراج کرایا تھا وہ دن شمار کر رھا تھا کہ وہ لمحہ کب آئے گا کہ جب وہ محاذِ جنگ پرجا کر اللہ کے حضور اپنی جاں کو پیش کرے گا!
محاذ جنگ پر جانے کے بعد جب اُس نے حقیقت کا مشاہدہ کیا تو اُسے بہت افسوس ہوا کہ اُس نے اِس عظیم کام کیلئے بہت دیر سے اقدام کیا ھے!
بھر حال جو ہونا تھا وہ ہو گیا تھا، اب وہ آگے کی تیاری کرنے میں مصروف عمل ہو گیا!
محاذِ جنگ پر آنے والے وعاظ محترم اور علماء شوق شھادت سے لبریز جوانوں کو اللہ کی محبت سے قریب کرنے کیلئے بہت کوششیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانات سے نوجوان بہت استفادہ کرتے تھے۔
کہیں دعائے کمیل، کہیں مناجات امام علی(ع)، کہیں مناجات اما سجاد(ع)۔ کہین مصائب اھل بیت، کہیں سینہ زنی، کہیں تلاوت قرآن، کہیں نماز شب، کہیں چھپ چھپ کر دوسروں کے برتن اور لباس کو دھنا، کہیں دوسرے کے جوتوں کو صاف کرنا، اور اسی جیسے دسیوں دوسرے کام ۔ ۔ ۔۔!!
شھید حامد سروی بھی ایک ایسا ہی نوجوان تھا۔ جتنا جتنا وقت گزرتا جاتا تھا اُس کے اضطراب و بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رھا تھا۔ اُسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہر رات صدیوں کے فاصلے کے برابر ھے اور ھر گزرنے والا دن اُس کی شھادت کی منزل کو اُس سے کوسوں میل دور لے جا رھا ھے!
ایسے وقت میں مایوسی اور شیطان حملہ آور ہوتے ہیں تا کہ رحمت الہی سے مایوس و نا امید کریں۔
علما اور وعاظ کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ محاذِ جنگ پر موجود نوجوانوں کو حقیقی توبہ سے قریب تر کریں تا کہ جب وہ جام شھادت نوش کریں تو اُن کی گردن پر حقوق الناس کا کوئی ذرہ موجود نہ ہو!
شھید حامد سروی ایک ایسا پاکیزہ نوجوان تھا کہ جو اپنے سن و سال کے لحاظ سے تو بہت کم سن تھا مگر اپنی معرفت و تقویٰ کے لحاظ سے بہت آگے!
اُس نے ھر گزرنے والے دن کے ساتھ شیطانی مکر و فریب کا جواب دینے کیلئے خدا کی عبادت میں اضافہ کر دیا۔ دنوں کو محاذِ جنگ پر لڑائی اور راتوں کو عبادت و دعا۔
نماز شب، تلاوت قرآن، مصائب اھل بیت(ع) کا بیان، زیارت عاشوراء، دوسرے مجاھدین کی مدد، دوستوں سے مزاح اور اِسی جیسے دوسری عبادات ۔ ۔ ۔!
وہ خدا سے یہی دعا کرتا کہ
’’ لا یمکن الفرار من حکومتک ۔ ۔ ۔!‘‘
خدایا! مجھے تو علم ہی نہ تھا، یہ تو تیرے عظیم بندے و ولی اورمیرے مولا علی(ع) نے یہ الفاظ سکھائے ہیں دعائے کمیل میں:
’’ خدایا! تیری حکومت و سلطنت و اقتدار سے فراد نا ممکن ہے! ‘‘
خدایا:
’’ عاملنا بفضلک و لا تعاملنا بعدلک‘‘
’’ اے اللہ ! ھم سے اپنے فضل و کرم کا سلوک کر اپنے عدل کا سلوک نہ کرنا! ‘‘
اِس لئے کہ اگر تو اپنے عدل و انصاف سے کام لے تو ھماری ھلاکت یقینی ھے!
اور اسی قسم کی اور دعائیں جو اھل بیت سے منسوب تھیں، روزانہ اُس کی زبان کا ورد تھیں!
۔
۔
۔
وہ اکثر یہی کپا کرتا تھا:
’’ خدایا مجھ میں تیرے عذاب کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ھے، مجھے اِسی دنیا میں عذاب دے دے تا کہ اُس دیا میں جب تیرے حضور گناھوں تو گناہوں سے پاک ہو کر جاؤں!!‘‘
’’ اے خدا مجھ میں تیرے عذاب کی طاقت نہیں!‘‘
’’ خدایا مجھے اِسی دنیا میں جلادے !‘‘
۔
۔
۔
یہ اُس کی دعائیں تھیں شب و روز کی!
اب ھر کوئی اُس کی اس دعا کو جاننے تھا کہ وہ اپنے ربّ سے کی طلب کر رھا ھے!
بس ایک دن اللہ نے اُس کی دعائیں سن لیں!
ایک دن وہ محاذِ جنگ پرتھا اور دشمن کے تعاقب میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔دونوں جانب سے سے گولہ بارود برسایا جا رھا تھا۔
بس اچانک ایسا ہوا کہ وہ گویا گولے بارود کے درمیان پھنس گیا اور وہ شھید ہو گیا۔
جب میدان جنگ سے سیاہ بادل چھٹے اور فضا اِس قابل ہوئی کہ اُس میں دیکھا جا سکے تو اُس کے رفقاء میدان جنگ میں پہنچے تو دیکھا کہ کافی شھدا کے جنازے زمین پر بکھرے ہوئے ہیں اور اُن میں صرف ایک ایسا جنازہ ھے جو بالکل جل چکا ھے اور اُس کی شناخت ممکن ھی نہیں ھے!
دوستوں ھے کہا کہ ہو نہ ہو یہ حامد سروی کا ہی جنازہ ہو گا۔ اتنے شھداء میں صرف ایک ہی لاش جلی ھے! بعد میں جب اُس کے گلے میں پڑے وئے لاکٹ کے نبر سے اُس کی شناخت کر لی گئی!
شھید نے اللہ سے تڑپ کر دعا کی تو اللہ نے اُس کی دعا کو اِسی دنیا میں قبول کر لیا تا کہ آخرت کی آگ سے اُسے محفوظ رکھے!
نوٹ: داستان سچی ھے لیکن منظر کشی تخیلی ھے!!








