شہداء کے خون پر بیرونی ایجنٹوں کو سیاست نہیں چمکانے دینگے، شہداء کوئٹہ و لاہورکانفرنس

شیعت نیوز کے نمائندے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے زیراہتمام محمدی مسجد حالی روڈ میں ’’شہداء کوئٹہ و لاہور کانفرنس‘‘ منعقد کی گئی جس میں علامہ ابوذر مہدوی، علامہ سید حیدر علی موسوی، علامہ محمد اقبال کامرانی، علامہ حسنین عارف، وزیر اعلیٰ پنجاب کے کوارڈنیٹر برائے مذہبی امور حید ر علی مرزا، لاہور سے شہید ڈاکٹر علی حیدر کی والدہ، ان کی اہلیہ اور دختر، کوئٹہ سے شہداء کے وارثان اور ملک بھر سے خواتین، بچوں اور مرد حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا خون شہدائے کوئٹہ میں اتنی تاثیر ہے کہ مگر مچھوں کے درمیان ہم نے اپنے ہزارہ دوستوں اور علماء کرام کی مدد سے محنت کی اور سازشوں کو ناکام بنایا، خود بلوچستان کی حکومت نے کہا ہے کہ آرمی خود نہیں آنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ کب تک مظلوموں کا خون کوئٹہ میں بہایا جاتا رہے گا، اب ہمیں جواب چاہئے کہ کون جھوٹا ہے، حکومت یا کوئی اور ہمیں اس کی وضاحت کر دیں پھر ہم جانیں اور ہمارا دشمن۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور ایچ ڈی پی کی ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جاتی ہیں، ہم اپنے شہداء کے خون پر استعمار کے ایجنٹوں کو سیاست نہیں چمکانے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا پاکیزہ خون ہماری حیات کا باعث ہے، جب ہمارے پاس ایسے شہداء موجود ہیں تو ہماری قوم کو کوئی بھی نہیں جھکا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنچاب حکومت پوری طرح دہشت گردوں کی پشت کر رہی ہے جس پر پوری قوم سراپا احتجاج ھے، جب تک پنجاب کے حکمرانوں کا کالعدم تنظیموں کیساتھ گٹھ جوڑ جاری رہے گا پنجاب میں امن قائم ہونا ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر علی حیدر کے قاتلوں کی گرفتاری میں پیش رفت نہ ہونے پر ملت جعفریہ میں اضطراب پایا جاتا ہے، پنجاب حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے پنجاب میں دہشت گردوں کی گرفتاری کی آڑ میں انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، رحمان ملک سے ہماری دو گھنٹے ملاقات ہوئی ہے، جنرل باجوہ نے پیغام پہنچایا ہے کہ ہم اپ سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ہمارے شہداء کے خون کی تاثیر ہے کہ حکمرانوں کو جھکنا پڑا ہے اور انشاء اللہ بے گناہوں کا خون رنگ لائے گا اور ملت کو نئی زندگی دے گا، ماضی میں شہداء کے خون کی قدر ہی نہیں کی گئی لیکن اب ہم شہداء کی شہادتیں رائے گاں نہیں جانے دیں گے۔ علامہ ابوذر مہدوی نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبہ بھر میں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانا وفاقی حکومت کیساتھ صوبائی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا افسوس پنجاب کے حکمران دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کیساتھ بیان بازی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم جماعتوں اور شدت پسندوں کا پاکستان سے صفایا ہونے تک ہماری پرامن جد وجہد جاری رہے گی۔ کانفرنس سے لواحقین شہداء کوئٹہ و لاہور نے حاضرین کو شہیدوں کی زندگیوں کے حالات و واقعات سے آگاہ کیا، جس کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے کو آئے۔ شہداء کے ورثا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو شہدائے کربلا کی راہ میں قربان کیا مگر وہ پاکستان میں شیعوں پر جاری ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے۔ کراچی سے آئے ہوئے معروف سوزخوان شجاع رضوی نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران فضا ’’لبیک یا حسین‘‘ کے نعروں سے گو نجتی رہی۔ بعد ازاں کانفرنس کے شرکا نے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ ملت جعفریہ کے جان ومال و حقوق کی ذمہ داری حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں پر ہے لہذا ان عظیم سانحات کے باوجود اگر آئندہ کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری براہ راست مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہوں گی۔ شرکا نے کہا کہ کوئٹہ کے سانحہ کے بعد خانوادہ شہداء4 ، علماء4 اور حکومت کے درمیان جو 23 نکاتی معاہدہ طے پایا ہے اس کے تمام نکات پر فوری عمل کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر ان عظیم قربانیوں کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومت بلوچستان نے کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو ملت جعفریہ اپنی پوری قوت کے ساتھ عمل کروانا جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین اور دیگر بھولے لوگوں نے جو علماء کی کردار کشی کی ہے، یہ قوم میں تفرقہ پھیلانے کی کوشش ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اگر ان قاتلوں اور ان لٹیروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ملت جعفریہ اس کا جواب حیدری تھپڑ سے دے گی۔ شرکاء نے کہا کہ پنجاب اور لاہور کے اندر متعدد واقعات ہوئے ہیں اور ملت جعفریہ کی آخری قربانی شہید ڈاکٹر علی حیدر نقوی اور ان کے بیٹے مرتضی حیدر کی قربانی ہے، ملت جعفریہ کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کے اندر دہشت گردی کو نہ روکا گیا اور دہشت گردوں کو لگام نہ دی گئی، ان کے نیٹ ورک کو نہ توڑا گیا اور ان کی حکومتی پشت پناہی نہ روکی گئی تو ملت جعفریہ کے گزشتہ دھرنوں کے بعد تیسرا دھرنا تاریخی ہو گا اور اس کا مرکز لاہور ہو گا اور پورا ملک اس کی حمایت میں دھرنا دے گا۔ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کے اندر ٹارگیٹڈ آپریشن کے عمل میں تیزی لائی جائے اور دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا جائے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مشتاق سکھیرا کی بلوچستان میں تعیناتی وارثان شہداء اور ملت جعفریہ کو قبول نہیں کیونکہ یہ پنجاب کے اندر فرقہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور دہشت گردی کی حمایت کرتا رہا ہے اسے فوری طور پر تبدیل کر کے غیر جانبدار افسر تعینات کیا جائے اور بلوچستان سمیت پورے ملک سے لشکر جھنگوی کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔








