فلسطینی اسیروں کے خلاف غیر انسانی اقدامات

25 اپریل, 2013 09:55

plf121صیہونی پارلیمنٹ نے اس قانون کو دوبرس قبل منظور کرکے فلسطینیوں کے جیل کی مدت میں توسیع کے بل کو کابینہ کے حوالہ کردیا تھا ۔ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی سرگرم سیاسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست اس اقدام اور فلسطینیوں کی جیل کی مدت میں توسیع کرکےانھیں دی جانے والی اذیتوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں کو دی جانے والی اذیتوں کو قانونی جانتا ہے اور اسرائیل کی عدالتیں بھی اذیت وآذار کو جائز سمجھتی ہیں جس کے نتیجے میں فلسطینیوں منجملہ فلسطینی اسیروں کو دی جانے والی اذیتیں روز بروز خطرناک رخ اختیار کرتی جارہی ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ صہیونی ریاست مختلف بہانوں سے فلسطینیوں کو گرفتار کرتی ہے اور مختلف بہانوں کے تحت انھیں آزاد کرنے سے منع کرتی ہے ۔ صہیونی ریاست غیر انسانی اقدامات کے ذریعہ کسی طرح کا الزام یا مقدمہ چلائے بغیر فلسطینیوں کو گرفتار کرلیتی ہے جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، فلسطینی اسراء کسی الزام اور جرم کے بغیر اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں پر ظلم اور تشدد ڈھانے میں کسی قسم کا کوئی دریغ نہیں کررہی ہے ۔ شا‏ئع ہونے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی ریاست جیلوں میں فلسطینی اسیروں کو زہریلے انجکشن لگانے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے کہ فلسطینیوں نے بین الاقوامی سطح پر اس بارے میں تحقیق کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں قانونی اور طبی حلقوں نے صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی اسیروں پر جدید دواؤں کی آزمایش کے بارے میں خبر دار کیا تھا اور تاکید کی تھی کہ غاصب صہیونی ریاست یہ اقدام طبی اخلاق اور اصول کے منافی ہے ۔ خبری حلقوں نے بھی حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت کی علمی کمیٹی کے سربراہ ڈالیا ایزتک کی طرف سے پارلیمنٹ کو جوخفیہ رپورٹ پیش کی گئی تھی پردہ اٹھایا ہے جس کے مطابق ہرسال صہیونی جیلوں میں قید ہزاروں فلسیطنی اسیروں پر ان کی طبی آزمایش کے بہانے ہزار مورد سے زیادہ خطرناک دواؤں کی آزمايش کی جاتی ہے ۔
فلسطینی اسیروں کے خلاف صہیونی ریاست کے تشدد آمیز اقدمات سےاس کے انتہائی بہیمانہ مظالم کی نشاندھی ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں صہیونی ریاست کے ظالمانہ اقدامات کے سامنے عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی خاموشی نے اسے مزید گستاخ بنادیا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطینیوں اور اسیروں کے خلاف آشکارہ خلاف ورزیوں کے باوجود مغربی ممالک اس کی بھر پور مالی اور سیاسی حمایت کررہے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ مغربی ممالک اسرائیل کو انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے کے لئے سبز چراغ دکھارہے ہیں ۔

4:32 شام مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔