پیغمبر اسلام (ص) کی توہین مسجد اقصٰی کو آگ لگانے سے زیادہ خطرناک ہے، سید حسن نصراللہ

توہین آمیز امریکی و اسرائیلی فلم پر اپنے ردعمل میں حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کا رسول اکرم (ص) کی توہین پر خاموش رہنا اسرائیل کو یہ پیغام دے گا کہ وہ جب چاہے مسجد اقصٰی کو آگ لگا سکتا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کل رات ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں توہین آمیز امریکی و اسرائیلی فلم پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس قبیح اقدام کو پیغمبر اسلام (ص)، قرآن کریم اور دین مبین اسلام کی توہین قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس کی ریلیز سے اب تک اس مختصر مدت میں اس فلم کے ذریعے مقدسات اسلام کی جو توہین ہوئی ہے کہ اس سے پہلے اسکا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اس فلم کا ریلیز ہونا ایک بڑا اور خطرناک حادثہ ہے اور اس سے بھی بدتر حادثہ اس فلم کے بنانے والوں کا اس کی نمائش کو جاری رکھنے پر اصرار ہے
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کی ذات خداوند متعال کے بعد مقدس ترین ذات ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میرے عقیدے کے مطابق یہ واقعہ 1969ء میں اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصٰی کو آگ لگانے کے حادثے سے بھی بڑا حادثہ ہے۔ انہوں نے تاکید کہ مقدسات اسلامی کی اتنی بڑی توہین پر مسلمانان جہاں کا سکوت خطرناک ہے، اور امت مسلمہ کا رسول اکرم (ص) کی توہین پر خاموش رہنا اسرائیل کو یہ پیغام دے گا کہ وہ جب چاہے مسجد اقصٰی کو آگ لگا سکتا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے امریکہ اور اسرائیل کے اس توہین آمیز اقدام کو مسلمانوں کے عقیدے پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ملت اسلامیہ پر ہر قسم کے حملے خواہ وہ فوجی، سیاسی، فکری یا اقتصادی ہو۔ ایسے حملے سے مقابلے کے لئے دو طریقے سے وارد عمل ہوا جا سکتا ہے۔ پہلا قدم یہ کہ اس حملے کے اہداف سے آشنائی حاصل کی جائے، اور پھر ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جائے کہ دشمن اپنے ان منحوس اہداف تک نہ پہنچ سکے۔ اور دوسرا یہ کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ دشمن کو دوبارہ اس قسم کے حملے کی جرات نہ ہوسکے۔
دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے امریکہ میں اسلام مخالف فلم بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت الہی ادیان کے پیروکاروں کے مابین دوریاں پیدا کرنے کی خاطر ہر ممکن حربے کا استعمال کرتے ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے کل رات کے خطاب میں گستاخانہ فلم کے خلاف مسلمانوں کے سخت ردعمل کی قدردانی کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی سے دنیائے اسلام کے خلاف سازشیں ناکام ہونگی۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر تاکید کی کہ اسلامی ممالک کی جانب سے امریکہ سے گستاخانہ فلم بنانیوالوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیئے، کیونکہ امریکی حکومت نے آزادی بیان کے بہانے اس فلم پر ابھی تک پابندی عائد نہیں کی ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی مقدسات کے خلاف توہین آمیز اقدامات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اپنی مقدسات کا دفاع، اسلامی حکومتوں اور مسلم اقوام کے لئے ایک فریضہ ہے۔








