سعودی حکومت کی اپنے عوام کے خلاف بربریت

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں عوام کے احتجاج میں اضافہ ہونے کے پیش نطر آل سعود نے نہتے عوام پر بکتر بند گاڑیوں سے حملے کرنا شروع کر دئے ہیں۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی فوج نے ظہران اڈے سےنکل کرشہر قطیف کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی ذرائع کے مطابق گذشتہ ہفتے مشرقی علاقوں میں شیعہ مسلمانوں اور سعودی فوج کے درمیان شدید جھڑپيں ہوئي تھیں جن میں دسیوں افراد شہید
اور سیکڑوں زخمی اور گرفتار ہوئے تھے۔ آل سعود کی شاہی حکومت کی بے دینی اور انتہا پسندی کی وجہ سے عوام تنگ آچکے ہیں اور سڑکوں پرنکل کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔
ادھر سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شہزادے ملک کا بیس فیصد بجٹ اپنی عیاشیوں میں اڑا دیتے ہیں۔
لبنان کے ایک سیاسی مبصر وفیق ابراہیم نے کہا کہ سعودی عرب کے شہزادوں کی اربوں ڈالر کی دولت سے پتہ چلتا ہے کہ آل سعود ملک کے ہر معاملے بالخصوص ہتھیاروں کی خریداری میں کمیشن کھاتی ہے۔ ابراہیم کے مطابق سعودی عرب کے خود ساختہ شہزادے ملک میں نگران اداروں کے موجود نہ ہونے سے نہایت غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور عوام کے حقوق ہڑپ کر کے اپنے عیش و نوش پر خرچ کر رہے ہیں۔ لبنان کے اس سیاسی محقق اور مبصر نے کہا کہ آل سعود کے لالچی عناصر امریکہ اور صیہونی حکومت نیز دیگر ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کےساتھ مل کر دیگرعرب ملکوں سے خطیر رقمیں اینٹھتے ہیں اور اسے اپنی عیاشی پر خرچ کرتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے شہزادوں کے ہاتھوں قوم کی دولت کی لوٹ مار کی نگرانی کوئي ادارہ نہیں کرتا جس کی وجہ سے آل سعود خاندان بے فکر ہوکر بھوکے اونٹ کی طرح ملت حجاز کی ہری بھری کھیتی چر رہا ہے۔








