امریکی مسلمانوں کی جاسوسی کا اعتراف

25 اگست, 2011 10:05

usa is evilامریکی مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی اور انٹیلی جنس اقدامات کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے مسلمان امریکی شہریوں کی جاسوسی کے لیے سی آئی اے اور نیویارک کی پولیس کے درمیان تعاون سے پردہ اٹھایا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے یہ معلومات نیویارک پولیس اور وفاقی ادارے کے چار سے زائد ریٹائرڈ اور حاضر سروس افراد سے انٹرویو کر کے حاصل کی ہیں۔ اس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد ریکرز کے نام سے موسوم سی آئی اے کے خفیہ جاسوس نیویارک پولیس کی مدد اور تعاون سے مختلف محلوں اور علاقوں میں جاتے تھے اور امریکی شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کرتے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے ہے کہ نیویارک کی پولیس بعض ایسے لوگوں کی خدمات بھی حاصل کرتی تھی جو حتی ان مسلمانوں کی بھی جاسوسی کرتے تھے جن سے کوئي غلطی سرزد نہیں ہوئی تھی اور وہ ان کے مذہبی پروگراموں کی بھی نگرانی کرتے تھے۔
سی آئی اے ایک ایسے وقت میں امریکہ کے مسلمان شہریوں کی جاسوسی کر رہی تھی کہ جب سی آئی اے کی ذمہ داریوں میں امریکی شہریوں کی جاسوسی شامل نہیں تھی اور اس پر ایسا کرنے پر پابندی لگائی گئي ہے۔ اس سے قبل اسلام امریکہ تعلقات کونسل نے ایف بی آئی کی جانب سے امریکی مسلمانوں کی جاسوسی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسلام امریکہ تعلقات کونسل کے رکن اور ورجینیا کی مسجد کے امام جمعہ ابراہیم ہوپر نے کہا تھا کہ امریکی مسلمان اب جانتے ہیں کہ جب وہ مسجد جاتے ہیں تو ان کی نگرانی اور جاسوسی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ اس اقدام سے صرف امریکی مسلمانوں پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس سے سب لوگوں کی زندگي متاثر ہو گي۔
گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد امریکی حکومت نے کانگرس میں پیٹریاٹک قانون پاس کروا کے یہ اجازت حاصل کر لی کہ وہ امریکہ کے بہت سے داخلی قوانین اور شہری حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی شہریوں کے ٹیلی فون ٹیپ اور ان کے ایمیل چیک کرے گي۔ البتہ ان اقدامات کا نشانہ زیادہ تر امریکہ کے مسلمان شہری بنے۔ 
اس قانون کی منظوری سے امریکہ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو اس بات اجازت مل گئی کہ امریکہ کے تمام شہریوں پر جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی، گہری نظر رکھ کر ان کی نگرانی کریں اور ان کی ذاتی زندگي کی حدود کی خلاف ورزی کریں۔ 
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مسلمانوں کی زندگی کی نگرانی صرف ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور ایمیل چیک کرنے جیسے اقدامات میں محدود نہیں ہے بلکہ ان کی آمدورفت اور نقل و حرکت پر بھی وفاقی پولیس اور سی آئي اے کی نظر تھی۔ 
ان انکشافات کی رو سے امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں صرف بین الاقوامی میدان میں اسلامی ملکوں پر حملے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے اغوا کو ہی اپنے لیے جائز نہیں سمجھتی تھی بلکہ اس نے اپنے ملک میں بھی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ 
گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکی مسلمانوں کے ساتھ امریکی حکومت کا یہ رویہ اس ملک میں اسلام دشمن رجحانات بڑھنے کا باعث بنا ہے اور حتی اسی بنیاد پر سیاستدانوں نے اپنی سیاست کی دکانیں چمکائي ہیں اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

9:28 صبح مارچ 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔