امریکی مسلمانوں کی جاسوسی کا اعتراف

امریکی مسلمانوں کے خلاف سکیورٹی اور انٹیلی جنس اقدامات کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے مسلمان امریکی شہریوں کی جاسوسی کے لیے سی آئی اے اور نیویارک کی پولیس کے درمیان تعاون سے پردہ اٹھایا ہے۔سی آئی اے ایک ایسے وقت میں امریکہ کے مسلمان شہریوں کی جاسوسی کر رہی تھی کہ جب سی آئی اے کی ذمہ داریوں میں امریکی شہریوں کی جاسوسی شامل نہیں تھی اور اس پر ایسا کرنے پر پابندی لگائی گئي ہے۔ اس سے قبل اسلام امریکہ تعلقات کونسل نے ایف بی آئی کی جانب سے امریکی مسلمانوں کی جاسوسی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسلام امریکہ تعلقات کونسل کے رکن اور ورجینیا کی مسجد کے امام جمعہ ابراہیم ہوپر نے کہا تھا کہ امریکی مسلمان اب جانتے ہیں کہ جب وہ مسجد جاتے ہیں تو ان کی نگرانی اور جاسوسی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ اس اقدام سے صرف امریکی مسلمانوں پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس سے سب لوگوں کی زندگي متاثر ہو گي۔
گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد امریکی حکومت نے کانگرس میں پیٹریاٹک قانون پاس کروا کے یہ اجازت حاصل کر لی کہ وہ امریکہ کے بہت سے داخلی قوانین اور شہری حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی شہریوں کے ٹیلی فون ٹیپ اور ان کے ایمیل چیک کرے گي۔ البتہ ان اقدامات کا نشانہ زیادہ تر امریکہ کے مسلمان شہری بنے۔
اس قانون کی منظوری سے امریکہ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو اس بات اجازت مل گئی کہ امریکہ کے تمام شہریوں پر جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی، گہری نظر رکھ کر ان کی نگرانی کریں اور ان کی ذاتی زندگي کی حدود کی خلاف ورزی کریں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مسلمانوں کی زندگی کی نگرانی صرف ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور ایمیل چیک کرنے جیسے اقدامات میں محدود نہیں ہے بلکہ ان کی آمدورفت اور نقل و حرکت پر بھی وفاقی پولیس اور سی آئي اے کی نظر تھی۔
ان انکشافات کی رو سے امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں صرف بین الاقوامی میدان میں اسلامی ملکوں پر حملے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے اغوا کو ہی اپنے لیے جائز نہیں سمجھتی تھی بلکہ اس نے اپنے ملک میں بھی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکی مسلمانوں کے ساتھ امریکی حکومت کا یہ رویہ اس ملک میں اسلام دشمن رجحانات بڑھنے کا باعث بنا ہے اور حتی اسی بنیاد پر سیاستدانوں نے اپنی سیاست کی دکانیں چمکائي ہیں اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔








