صدر: ايران جوہري مسئلے ميں امتيازي سلوک ہرگز برداشت نہيں کرے گا
صدر مملکت ڈاکٹر روحاني نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران جوہري مسئلے ميں امتيازي سلوک ہرگز برداشت نہيں کرے گا۔
انہوں نے سامراجي حکمرانوں کو خبردار کيا کہ انہيں ايراني قوم سے احترام کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگي اس لئے کہ دھونس و دھمکي کي زبان سے ايراني قوم کو مرعوب نہيں کيا جا سکتا۔
ڈاکٹر روحاني نے ايران کے خلاف عائد پابنديوں کو غير قانوني قرار ديتے ہوئے کہا کہ اس طرح کي پابنديوں سے اين پي ٹي معاہدہ کمزور ہوگا جس سے عالمي قوانين بھي متاثر ہوں گے۔
انہوں نے ايران سے امريکي دشمني کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ايراني عوام امريکہ پر بالکل بھروسہ نہيں کرتے جس کے ازالے کے لئے اسے اپني نيک نيتي ثابت کرني ہوگي۔
شام ميں جاري کشيدگي کے حوالے سے پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں ڈاکٹر حسن روحاني نے کہا کہ پوري دنيا کے سامنے يہ بات بخوبي عياں ہو چکي ہے کہ بعض ہمسايہ ممالک کي پشت پناہي ميں دہشت گردوں کا ايک خطرناک گروہ آج شام کے افواج سے برسرپيکار ہے، وہ ان دہشت گردوں کے ساتھ جاني اور مالي تعاون کر رہے ہيں-
انہوں نے کہا کہ اگر بالفرض، شام کے عوام برسراقتدار حکومت کے مخالف بھي ہيں تو انہيں دہشت گردانہ کاروائيوں کي بجائے مذاکرات و گفتگو سے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہيے۔
صدر ممکت نے کہا کہ ايٹمي اسلحہ اور قتل عام کے لئے ايران کي دفاعي اصول ميں کوئي جگہ نہيں ہے اور يہ بات ہمارے مذہبي اور اخلاقي اعتقادات کے منافي ہے-