شہید کی دھوپ زدہ لاش اور ایک پرانی یاد

25 نومبر, 2012 18:53

syed ali khamnaiآیت اللہ العظمی امام سیدعلی خامنہ ای کو جب ایک شہید کی آفتاب زدہ لاش کا واقعہ سنایا گیا تو آپ کو شہید طَفّ یاد آئے۔
امام خامنہ ای زمانۂ جنگ کا ایک واقعہ سناتے ہوئے فرماتے ہيں:
جن دنوں ہم محاذ جنگ پر ہوتے تھے ان ایام میں ایک ایسا مقام تھا جس پر دشمن نے قبضہ کیا تھا اور پھر ہماری فوجوں نے وہ مقام دشمن سے چھڑا لیا۔ میں ان مورچوں کا معائنہ کررہا تھا اور مختلف یونٹوں، ٹھکانوں اور مورچوں میں جاکر مجاہد بھائیوں سے مل رہا تھا۔ اسی اثناء میں ایک دو بھائی دوڑتے ہوئے سراسیمگی کے عالم میں پسینے میں شرابور ہانپتے ہوئے میرے قریب آئے اور مجھے ان افراد سے الگ کیا جو مجھے رپورٹ دے رہے تھے۔ میں نے ان کو دیکھا تو بہت زيادہ پریشان تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے: ہم اس جنگی علاقے میں گشت کررہے تھے کہ ہماری نگاہ ایک شہید کی میت پر پڑي جو کئی دنوں سے دھوپ میں پڑی رہی ہے۔
میں سخت صدمہ پہنچا اور اس محاذ پر موجود ذمہ دار برادران سے کہا کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل کریں اور اس شہید اور دوسرے شہداء کی میتیں اٹھا لائیں؛ لیکن اسی حال میں میں نے دل ہی دل میں کہا: قربان جاؤں آپ کے پارہ پارہ جسم اطہر پر اے ابا عبداللہ! اس مقام پر انسان سمجھ لیتا ہے کہ ثانی زہرا زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کوکتنا شدید صدمہ پہنچا ہوگا جب آپ بھائی کے جسم عریان پر گر پڑیں اور اس صدائے حزین اور بے اختیاری کے عالم میں بعض کلمات فضا میں بکھیر دیئے اور تاریخ میں ثبت کرائے؛ فرمایا: "بِأَبی المَظلُومِ حَتّى قضی، بِأَبیَ العَطشان حتى مضی” میرا باپ فدا ہو اس پر جو آخری لمحے تک تشنہ لب رہا اور اسی حالت میں چل بسا”
۱۳۶۷/۰۶/۰۴ ہجری شمسی بمطابق 26 اگست 1988

12:07 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔