سلفيت سعودي عرب ميں كيسے وجود ميں آئي؟

08 مئی, 2014 08:48

salfiyatخبر رسان ايجنسي ٹرور وكٹمز نے فارس سے نقل كيا ہے كہ پاسداران انقلاب اسلامي ايران كي سپاہ قدس كے كمانڈر سردار قاسم سليماني نے ايك تقرير ميں دنيائے اسلامي كي صورت حال كا تجزيہ اور كيا كرنا چاہيے اور كيا نہيں كرنا چاہيے كے موضوع پر فرمايا كہ ميري اس تقرير ميں اہم باتيں بين الاقوامي مسائل كے ماہر خليل قلخانباز كے تجزيات كا نتيجہ ہيں۔

آج اسلامي حكومت كا ايك نمونہ جمہوري اسلامي كي صورت ميں دنيا كے سامنے موجود ہے۔ سعودي عرب كي بے انتہا كوشش ہے كہ دو كاموں كو انجام دے ايك يہ كہ زيادہ سے زيادہ پيسہ خرچ كريں اور دوسرا كام دنيائے اسلام ميں نفاق كا بيج بونے كے ليے سلفيت كو فروغ ديں۔ يہ سب صرف اس ليے ہے كہ كہيں جمہوري اسلامي كا نمونہ ان كے ہاں مؤثر ثابت نہ ہو جائے۔
سردار سليماني نے خليل قلخانباز كے تجزيہ سے اقتباس كو پڑهتے ہوئے كہا كہ ان دنوں ميں مشرق وسطيٰ كا علاقہ دہشت گردوں كي آماجگاہ اور تربيت گاہ ميں تبديل ہو چكا ہے۔اور ہر روز ان دہشت گردي كي سرگرميوں اور اقدامات ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ كوئي ايسا دن يا ہفتہ ايسا نہيں ہے كہ جب تيل كي پيداوار كا حامل يہ خطہ دہشت گردي كي سرگرميوں سے محفوظ ہو ۔عراق ،شام، لبنان، يمن، افغانستان اور حتيٰ كہ بعض اوقات خود اسلامي جمہوريہ ايران بهي ان وارداتوں كي بهينٹ چڑه جاتا ہے۔
يہ چهوٹے چهوٹے دہشت گرد گروہ كسي بڑي طاقت كي مالي اور دوسري مدد كے بغير نہيں چل سكتے۔ ان امدادوں ميں سے اہم ترين امداد مالي، اور ايك متاثر كرنے والي آئيڈيالوجي جو ان كو ان دہشت گردانہ كاروائيوں پر اكسائے كو ايك ہي منبع سے حاصل ہونا چاہيے۔
مقاومت كرنے والے ممالك اور مذہب تشيع سے مقابلہ، حقيقي اسلامي گروہوں كے درميان تفرقہ پردازي اور بعض دوسرے اہم اہداف كے حصول كے ليے يہ دہشت گرد اس منطقہ ميں اپني منحوس سرگرميوں ميں فعال ہيں۔
ان گروہوں كے اہداف كے پيش نظر يہ بات واضح ہو جاتي ہے كہ بلا شبہ سعودي عرب ان دہشت گرد گروہوں كا مالي، لاجيسٹك، آئيڈيالوجي اور منطقے ميں افراطي تبليغي گروہوں كو بهيجنے كے حوالے سے بہتريں حامي اور مدد گار ہے۔
دہشت گردوں كےحامي باقي تمام ممالك سے زيادہ سعودي عرب اس علاقہ ميں شكست كها چكا ہے ۔وہابيت جو سعودي عرب پر حاكم ہے ملت تشيع كے مقابلے ميں ہے اور ساته ساته ان معتدل سني فرقوں كو بهي اپنے مخالف كر چكي ہے اور يہ وہابيت اپنے منافع كے حصول كے ليے مزيد اسلامي فرقوں ميں فرقہ واريت كے تعصب كو فروغ دے رہي ہے۔
سعودي عرب ان دہشت گرد گروہوں كي مدد كيوں كر رہا ہے؟
اس بارے ميں كئي دلائل موجود ہيں جن ميں سے چند آپ كي خدمت ميں پيش كيے جا رہے ہيں۔
سعودي عرب كا وہابيت اور دہشت گردي كو فروغ دينا۔
اسلامي اور عربي ممالك ميں سعودي عرب كو ايك اسلامي اصول پسند اور قدامت پسند تصور كيا جاتا ہے۔ يہ ايك تاريخي واقعے كي وجہ ہے ۔محمد ابن سعود اور شيخ محمد بن عبدالوهاب كے درميان ايك معاہدہ ہوا تها كہ ابن سعود ايك سياسي اور فوجي ليڈر كے طور پر امام كا لقب حاصل كرے گا اورشيخ ابن عبدالوهاب ايك مذهبي سكالر كے طور پر معروف ہوگا اور آئيڈيالوجي اس كي حاكم ہو گي۔
اس طرح آل سعود كي خانداني آمريت ديني رنگ حاصل كر لے گي اور دنيا كي بد تريں آمريت حاكم ہو جائے گي۔
يہ تفكر نہ صرف سعودي عرب ميں رائج كيا جائے گا بلكہ دنيا كے تمام ممالك ميں اس كو پهيلانے كي كوشش كي جائے گي اور باقي ممالك كہ جن كو كافر قرار ديا جا چكا ہے ان كے خلاف بهي كاروائيوں كا راستہ كهولا جا سكے۔
آل سعود نے علمائے وہابيت اور اسلام كے ساته رابطے كا بہت غلط فائدہ اٹهايا اور اپني حكومت كو ايك اسلامي اور مذهبي حكومت كے عنوان سے معروف كروانے ميں كامياب ہو گئے اور محمد ابن وهاب كے نام كي وجہ سے پيغمبر اكرم ﷺ كے نام سے بهي فائدہ اٹهايا اور كہا كہ يہ محمد ثاني ہے۔ اور سعودي عرب ميں محمد ثاني كي حكومت ہے۔
آل سعود كي حكومت كے بننے سے ليكر آج تك وہاں كي ثقافت، تعليم و تربيت اور عدليہ كے نظام كو اس طرح رائج كيا گيا كہ سني اس مملكت كو سني مملكت سمجهتے ہيں۔
محمد ابن عبد الوهاب وهابي فرقے كا باني ہے اس كا يہ عقيدہ تها كہ پيغمبر اكرمﷺ كے دور زندگي سے فاصلے كي بناپر تمام مسلمان كافر اور مرتد ہو چكے ہيں اور ان كي اصلاح كے ليے ان سے بهي جنگ كرنا چاہيے جيسے پيغمبر اكرمﷺ نے كفار سے جنگ كي تهي۔
يہ وہ طرز تفكر ہے جس كي بدولت يہ انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ اسلام واقعي كو پهيلانے كي خاطر اللہ كي رضا كے حصول كے ليے اپنا سب كچه قربان كر رہے ہيں۔ اور بے گناہ مسلمانوں كو موت كے گهاٹ اتار رہے ہيں۔
دہشت گردي كي حمايت ميں سعودي عرب كي سياست كا كردار
مندرجہ بالا تفكر مذهبي و ديني عام افراد كا منظور نظر تو ہو سكتا ہے البتہ شايد يہ پہلو سيستدانوں كے ليے اتنا قابل قبول نہ ہو بلكہ وہ اپنے سياسي اہداف كے حصول كے ليے اس گروہ كي سرپرستي كر رہے ہيں۔
يہ سياسي اہداف كو داخلي،علاقائي اور عالمي سطح كے حوالے سے تين حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے
۱۔داخلي: چوں كہ سعودي عرب كي حكومت عوامي حكومت نہيں ہے لوگوں كي فكر كو اس اصلي مسئلہ سے منحرف كرنے اور دوسري طرف متمركز كرنے كے ليے سياستدانوں كي كوشش يہ رہي ہے كہ اندروني بحرانات كو كم اہميت بيان كيا جائے اور بيروني مسائل پر ان كي توجہ كو مركوز كر ديا جائے۔
سعودي عرب كا نظام سياسي اور حكومتي كچه اس طرح كا ہے كہ عوام كو كسي قسم كا دخالت كا حق نہيں ہے اور صرف چند افراد كے ہاته ميں قدرت اور طاقت موجود ہے اور يہ قليل سا گروہ اس كوشش ميں مصروف عمل نظر آتا ہے كہ كسي طريقے سے عوام كے افكار كو ان كے بنيادي حقوق كي پيروي كرنے سے منحرف ركها جائے اور جمہوري ممالك كي صورت حال كو اس طرح دگر گوں كر ديا جائےاور نا امن بنا ديا جائےتا كہ وہاں كي عوام ان ممالك كي صورتحال سے نفرت ہو جائے اور اس كے مقابلے ميں اپنے ملك كي صورتحال كو ايسے انداز ميں پيش كيا جائے كہ لوگ اسي كو قبول كرنے پر راضي ہو جائيں۔ اور لوگ كسي قسم كا اعتراض نہ كريں۔
۲۔ علاقائي: منطقے كے حوالے سے سعودي عرب كي سياست ہر ملك كے ليے مختلف ہوتي ہے۔ مثلا عراق كے بارے ميں صدام كي حكومت كے سقوط كے بعدسعودي عرب اپنے آپ كو شكست خوردہ سمجهتا ہے اور اس ملك ميں سالوں سے سياست سے دور قوم شيعہ كا حكومت حاصل كر لينے كو اپنے ليے نقصان كا باعث سمجهتا ہے۔
اسي ليے اب چوں كہ عراق ميں انتخابات نزديك ہيں سعودي عرب كي سر توڑ كوشش ہے كہ وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل كر لے اور پچهلے انتخابات كي جو كوششيں اس كي ناكام ہوئي تهيں اس دفعہ حاصل كر پائے۔
بنابر ايں اس كي كوشش يہ ہے كہ نوري مالكي كي حكومت كو ناكام ثابت كيا جائے اور اگلي دفعہ اپني پسند كي پارٹي كے ليے راستہ ہموار كيا جائے۔ دوسري طرف شام كے حالات ميں مدد كے حصول كے ليے بهي سعودي عرب كے ليے ضروري يہ ہے كہ عراق كي حكومت تبديل ہو تاكہ وہ آنے والي حكومت كے توسط سے شام ميں سر گرم دہشت گردوں كي مدد كو جاري ركه پائے گا۔
۳۔عالمي: عالمي سياست پر بهي سعودي عرب كي دہشت گردانہ سياست كو كسي اور انداز ميں ديكها جا سكتا ہے۔ اب سعودي عرب امريكہ كے ساته ناخوش ہے كيوں كہ امريكہ نے ايران كے ايٹمي توانائي كے معاملے پر سعودي عرب كي مخالفت كا خيال نہيں ركها اور دوسري طرف شام ميں اسد كي حكومت كے خلاف امريكہ كا حملہ نہ كرنا۔
اب سعودي عرب كي يہ كوشش ہے كہ شام ميں دہشت گردي كي كاروائيوں ميں اضافہ كے ذريعے امريكہ كو اس علاقے ميں حملہ پر مجبور كيا جائے اور اسي طرح عراق ميں امريكہ كو انتخابات ميں سعودي حمايت يافتہ گروہ كي مدد پر مجبور كيا جائے۔ اور شام كے بارے ميں سعودي عرب اس بات كا معتقد ہے كہ اگر عراق كي حكومت كي مدد شامل حال نہ ہوتي تو اسد كي حكومت ختم ہو چكي ہوتي اسي ليے اس كي بهر پور كوشش ہے كہ عراق كي حكومت كو تبديل كيا جائے۔
پس ان دنوں سعودي عرب ہر زمانے سے زيادہ اب دہشت گردي كي حمايت كر رہا ہے تا كہ اپنے نا جائز سياسي اہداف كو بمب وغيرہ كو منفجر كروانے كے ذريعے حاصل كر سكے۔ اور دہشت گردوں كي نئي نسل يعني طالبان اور القاعدہ كي نئي نسل كو اگلي صدي كے ليے پروان چڑهانے كے بارے ميں سوچ رها ہے۔

2:29 شام جون 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔