سعودی تکفیری فتوے یمنی مزاحمت کا حق نہیں چھین سکتے، انصار اللہ اور یمنی علماء

05 نومبر, 2026 09:46

شیعیت نیوز : سعودی رجیم کی جانب سے یمنی عوام اور انصار اللہ کے خلاف تکفیری فتوے ایک بار پھر مذہبی زبان میں جاری کیے جا رہے ہیں، تاکہ یمن پر جاری سعودی جارحیت، محاصرے اور قتل عام کو شرعی جواز پہنایا جا سکے۔ ان فتووں کا خلاصہ یمنیوں کو مرتد و باغی قرار دے کر ان سے جنگ کو "اہم ترین فرائض” میں شمار کرنا ہے۔

سعودی مفتی شیخ صالح الفوزان سے منسوب فتوے کے بعد انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے کہا کہ یہ فتویٰ جھوٹے دعووں اور من گھڑت الزامات پر مبنی ہے، اور آل سعود نے مذہبی احکام کو سیاسی مقاصد کا آلہ بنا لیا ہے تاکہ مخالفین پر کفر اور فرقہ وارانہ لیبل چسپاں کیے جا سکیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو حلقے غاصب اسرائیل کے دشمن اور فلسطین کے حامیوں پر فتوے دیتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین، قرآن کی بے حرمتی یا اسلام دشمنی پر اسی شدت سے فتویٰ کیوں نہیں دیا، اور غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر الفوزان سے صیہونی دشمن کے خلاف فتویٰ کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : مکہ پر حملے کا پروپیگنڈا، تکفیری حلقوں کے کفر کے فتوے اور حقیقت

انصار اللہ سیاسی بیورو کے ایک اور رکن حزام الاسعد نے کہا کہ سعودی مذہبی ادارہ آل سعود کے نظام سے جڑا ہوا ہے اور غزہ میں صیہونی قتل عام پر خاموش ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث "الایمان یمن والا حکمت یمن” کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی وہابی تکفیری فتووں کے مقابلے میں یمنی ایمان اور حکمت کو اجاگر کیا۔

یمنی علماء ایسوسی ایشن کے رکن خالد القاروتی اور جامعہ صنعاء کے نائب صدر حمود الاهنومی نے بھی اس فتویٰ کو الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ تاریخی تسلسل قرار دیا، اور پوچھا کہ حرمین کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے یمنیوں پر تکفیر کیوں کرتے ہیں جبکہ غزہ پر حملے کے دوران ایسی آوازیں غائب رہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد سعودی رجیم مذہبی اور سیاسی پروپیگنڈے سے جنگ کی حمایت جوڑ رہا ہے، لیکن یمنی اکادمی اور سیاسی شخصیات کا موقف واضح ہے کہ ایسے فتوے یمنیوں کا اپنے دفاع، جارحیت کا مقابلہ اور محاصرہ ختم کرانے کا حق چھین نہیں سکتے۔

10:42 صبح نومبر 5, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔