حضرت زینب (س) نے ابن زیاد کے دربار میں اموی جبرگرائی کی فکر کو شکست دی، آیت اللہ جوادی آملی

15 اکتوبر, 2026 20:34

شیعیت نیوز : حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے مسجد اعظم قم المقدسہ میں اپنے ہفتہ وار درسِ اخلاق سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثانیِ زہرا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں اموی حکومت کی جبرگرائی (Predeterminism) کی سوچ کو شکست دے کر انسان کی حقیقی آزادی، اختیار اور ذمہ داری کو واضح کیا۔

یومِ ولادت حضرت زینب (س) کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوفہ میں آپ (س) کا خطبہ محض مصائب کا بیان نہیں تھا بلکہ ایک گہرا کلامی اور اعتقادی دفاع تھا۔ بنی امیہ اپنے مظالم کو چھپانے اور اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے نظریہ جبر کا سہارا لیتے تھے۔ جب ابن زیاد نے طنزاً کہا کہ دیکھا خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ تو حضرت زینب (س) نے «مَا رَاَیْتُ اِلَّا جَمِیلًا» (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا) کہہ کر واضح کیا کہ خدا کا کام خوبصورت ہے، لیکن قاتل تم ہو اور قتلِ امام حسین (ع) کے ذمہ دار بھی تم ہو۔ اس طرح آپ (س) نے باطل نظریات کا پردہ چاک کیا۔

یہ بھی پڑھیں : ولادت حضرت زینب (س) اور یومِ نرسنگ، آیت اللہ اعرافی کا نرسوں کی عظیم خدمات کو خراجِ تحسین

نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کا حوالہ دیتے ہوئے آیت اللہ جوادی آملی نے فرمایا کہ انسان کو اپنے وجود کی قدر پہچاننی چاہیے۔ انسان کی حقیقی قیمت جنت ہے، لہٰذا دنیا کے فانی عہدوں (لماظہ) کے عوض اسے فروخت نہیں کرنا چاہیے۔ انسانی روح کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام میں روح نہ مذکر ہے نہ مؤنث، بلکہ یہ تجرد اور کمال کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے نظامِ اسلامی کی سلامتی، اہل بیت (ع) کے سائے میں اس کی بقا اور امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لیے خصوصی دعا پر اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

9:34 شام اکتوبر 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔