یمن میں امریکی و سعودی رجیم کی جارحیت: 7 سالوں میں 1400 سے زائد مساجد اور مزارات شہید

23 ستمبر, 2026 19:53

شیعیت نیوز : سرکاری اعداد و شمار اور المسیرہ نیٹ ورک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یمن میں گزشتہ سات سالوں کے دوران 1,400 سے زائد مساجد، قرآنی مدارس اور مزارات کو امریکی و سعودی رجیم کی جارحیت اور ان کے کرائے کے فوجیوں کی جانب سے منظم طریقے سے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا ہے۔

مساجد کو نشانہ بنانے کی اس مہم کا باقاعدہ آغاز 9 اپریل 2015 کو شہر صعدہ میں تاریخی امام الہادی مسجد پر بمباری سے ہوا، جو ماران پہاڑ پر شہید رہنما کے مزار پر 14 فضائی حملوں کے صرف ایک دن بعد کیا گیا۔ یمن کے مفتی اعظم علامہ شمس الدین شرف الدین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ مساجد کو نشانہ بنانا ان حملہ آوروں کی نااہلی اور ایمان کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ اور امل تحریک اس وقت مستحکم ترین پوزیشن میں ہیں، لبنانی رکن پارلیمنٹ

جارحیت صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ 12 جنوری 2016 کو صوبہ صنعاء کے ضلع بلاد الروس میں جرف مسجد پر اس وقت حملہ کیا گیا جب نمازی اندر موجود تھے، جس سے درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں، صوبہ الحدیدہ میں عالم محمد الفض کے مزار کو کرائے کے فوجیوں نے بارودی سرنگوں سے تباہ کیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق ایک ہی گھر میں ایک خاندان کے 17 افراد شہید ہوئے، جبکہ عالم فؤاد ناجی نے کہا کہ جارحیت نے ایسا بدصورت چہرہ دکھایا ہے جو اللہ کے گھروں کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔

ان ہولناک جرائم اور مساجد کی تباہی کے باوجود، امریکی و سعودی رجیم یمنیوں اور ان کے پروردگار کے درمیان تعلق کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ آج بھی تباہ شدہ مساجد کے ملبے پر بغیر میناروں اور لاؤڈ اسپیکروں کے اذان بلند ہوتی ہے، اور پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ لاکھوں یمنی عوام استقامت کے میدانوں میں ثابت قدمی کے ساتھ اللہ کا نام پکار رہے ہیں۔

8:47 شام ستمبر 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔