یمن پر جنگ کو مسلکی رنگ دینے کا سعودی حربہ ناکام، صادق سریع

06 نومبر, 2026 09:41

شیعیت نیوز : تجزیہ نگار صادق سریع نے یمن میں تازہ محاذی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے سعودی رجیم کی جانب سے جنگ کو فرقہ وارانہ تصادم میں تبدیل کرنے کی کوشش کو ناکام قرار دیا ہے۔ ان کے تجزیے میں تعز اور لحج کی لڑائی کو صرف جغرافیائی پیش قدمی نہیں بلکہ مسلکی بیانیے کے سیاسی استعمال کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

اس جائزے کے مطابق آل سعود نے مذہبی انتہاپسند گروہوں کو مالی اور عسکری مدد دے کر انہیں جنگی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ مصنف کا استدلال ہے کہ بیرونی مداخلت کو مذہبی رنگ دینا، علاقائی اور مسلکی تقسیم بڑھانا اور یمنی معاشرے کے باہمی رشتے کمزور کرنا اس حکمت عملی کے بنیادی پہلو ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی تکفیری فتوے یمنی مزاحمت کا حق نہیں چھین سکتے، انصار اللہ اور یمنی علماء

رپورٹ میں یمنی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مأرب، الجوف، لحج اور عدن میں عسکری تجمعات اور اسلحہ ذخائر پر کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتائج اور محاذی برتری کے دعوے یمنی فوجی بیانات اور مصنف کے تجزیے سے منسوب ہیں، انہیں آزادانہ تصدیق شدہ اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

صادق سریع کے مطابق صنعاء اپنی جنگی حکمت عملی کو قومی خودمختاری، جارحیت کے خاتمے، محاصرہ اٹھانے اور یمنی عوام کے حقوق کے حصول سے جوڑتی ہے۔ ان کا نتیجہ یہ ہے کہ اس قومی و سیاسی بنیاد کو مسلکی نفرت میں بدلنے کی کوشش زمینی حقائق کا متبادل نہیں بن سکی، جبکہ مذہبی انتہاپسند گروہوں کو مذاکراتی دباؤ کے مستقل ذریعے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی مطلوبہ نتیجہ نہیں دے سکا۔

11:12 صبح نومبر 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔