اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب ایروانی: قرارداد 2231 اب قانونی حیثیت کھو چکی ہے
شیعیت نیوز : اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس اور چین کے اس اصولی مؤقف کو سراہتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے قرارداد 2231 سے متعلق اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی، کیونکہ یہ اجلاس کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں تھا۔
انہوں نے پاکستان اور صومالیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اجلاس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231، 18 اکتوبر 2025 کو اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اس لیے اس کی کوئی قانونی یا عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے تحت قائم تمام اختیارات، رپورٹنگ کی ذمہ داریاں اور طریقہ کار ختم ہو چکے ہیں، لہٰذا سیکریٹری جنرل کی رپورٹ، سیکریٹریٹ کی بریفنگ اور سلامتی کونسل میں اس موضوع پر بحث کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : برطانوی میڈیا: مشہد میں شہید رہبر کی تشییع “سیاہ اور سرخ رنگوں کا سمندر” بن گئی
ایروانی نے کہا کہ امریکہ نے 7 اور 8 جولائی کو جنوبی ایران اور خلیج فارس کے بعض ایرانی جزیروں پر حملے کر کے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور بلکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی بھی صریح خلاف ورزی کی، جس کے تحت امریکہ نے ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، راستے کی بحالی اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی مکمل ذمہ داری صرف ایران کے پاس ہے، اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے معاہدے پر عمل درآمد، بحری سلامتی اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔







