ایرانی وزارت خارجہ: امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، ایران بھی ذمہ داریوں سے آزاد
اسماعیل بقائی
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوری ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی۔ تاہم اپنی ہمیشہ کی ذمہ دارانہ پالیسی کے تحت ایک علاقائی ثالث کی ایران آمد اور تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کی درخواست کو مسترد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دورہ آج مشہد میں ہوا، جہاں ایرانی حکام نے قطری فریق کو اپنے مؤقف اور نقطۂ نظر سے آگاہ کیا۔
بقائی نے کہا کہ امریکہ کی عہد شکنی کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی مستقل عادت ہے۔ اگر 2018 میں امریکی حکومت نے مختلف جواز پیش کیے تھے تو اب موجودہ حکومت بھی اپنی ہی طے کردہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جسے دستخط ہوئے ابھی صرف بائیس روز گزرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدھ اور جمعرات کو ہونے والے اقدامات مفاہمتی یادداشت کی پہلی اور دوسری شق کی صریح خلاف ورزی تھے، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق اعلان بھی ایک اور شق کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح ایران پر نئی پابندیوں کا نفاذ مفاہمتی یادداشت کی نویں شق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ چودہ شقوں پر مشتمل اس یادداشت کے مختلف حصوں کو امریکہ مختلف بہانوں سے پامال کر چکا ہے، اس لیے اس کی عہد شکنی پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا اصول عہد کے بدلے عہد ہے، یعنی ایران اپنی کسی بھی ذمہ داری پر اس وقت تک عمل نہیں کرے گا جب تک دوسرا فریق بھی اپنے وعدوں کی پابندی نہ کرے۔ امریکہ کی خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران بھی ضروری اقدامات کر چکا ہے اور آئندہ بھی یہی پالیسی برقرار رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ابوظہبی کو اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا، غریب آبادی
اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی درخواست پر بلایا گیا تھا، حالانکہ قرارداد 2231 قانونی طور پر 18 اکتوبر 2025 کو اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اس لیے اس قرارداد کے نفاذ سے متعلق کسی بھی قسم کی رپورٹنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور روس نے بھی اجلاس کے آغاز ہی سے اس کی مخالفت کی۔ اجلاس میں ایک بار پھر ایران کی جانب سے حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہ دینے کا معاملہ اٹھایا گیا، حالانکہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان حملوں کی مذمت کرنا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی ذمہ داری تھی، جو انہوں نے ادا نہیں کی۔
بقائی نے کہا کہ یہ اجلاس کسی نتیجے پر نہیں پہنچا اور محض امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی ایک تکراری اور تشہیری کارروائی ثابت ہوا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان کا دورہ کریں گے، جو گزشتہ دو ماہ سے جاری مشاورت کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز ایک اہم موضوع تھا، جس کے تحت ایران نے بحری آمدورفت کے معمولات اور جہازرانی کی سہولت سے متعلق ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔
بقائی کے مطابق تہران اور مسقط میں اس سلسلے میں کئی تکنیکی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ عراقچی کا موجودہ دورہ بھی آبنائے ہرمز میں محفوظ جہازرانی کو مزید آسان بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور مشاورت کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کیا جارہا ہے۔







