علامہ مقصود علی ڈومکی کا بیان: شہید رہبر کی جدوجہد کو خراج عقیدت، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ذلت و رسوائی میں اضافہ، فرقہ پرست عناصر سے احتیاط
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت و صوبائی آرگنائزر سندھ علامہ مقصود علی ڈومکی نے رانی پور کے قریب بھیلار امام بارگاہ میں منعقدہ سالانہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر مسلمین جہاں، نائب امام زمانہ، سید علی خامنہ ای کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دنیا بھر کے غیرت مند مسلمان ان کے چہلم کے موقع پر بھرپور انداز میں اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر نے اپنی پوری حیات طیبہ دین اسلام کی سربلندی، امت مسلمہ کے اتحاد اور وقت کے فرعونوں اور یزیدی قوتوں کے خلاف جہاد میں گزاری۔ آپ کی بصیرت، شجاعت اور قربانیوں نے امت مسلمہ کو باطل قوتوں کے مقابلے میں یکجا کیا اور انہیں حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : گابی اشکنازی کا اعتراف: ایران نے 41 دن کی جنگ میں ثابت قدمی دکھائی، آبنائے ہرمز اب تہران کے لیے اے ٹی ایم مشین بن چکا ہے
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غرور و تکبر خاک میں مل چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ذلت و رسوائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غاصب صہیونیوں کے لئے اب واحد راستہ یہی ہے کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپاہ اسلام نے غاصب صہیونی قوتوں کے لئے فلسطین کی سرزمین کو جہنم بنا دیا ہے، جبکہ کچھ فرقہ پرست عناصر امریکہ و اسرائیل کی غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے ایک بار پھر امت مسلمہ میں نفرتیں پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور اتحاد امت کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کے چہلم کے موقع پر مومنین سید مظلوم شہید سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنے عشق و عقیدت کا بھرپور اظہار کریں گے۔
اس موقع پر ممتاز عالم دین مولانا امداد حسین شجاعی اور ذاکر اہل بیت سید غلام حسین شاہ نے بھی مجلس عزاء سے خطاب کیا۔ بعد ازاں علامہ مقصود علی ڈومکی نے رانی پور میں قائم دینی ادارہ جامعۃ المرتضیٰ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامعہ کے پرنسپل مولانا لیاقت علی قمی، اساتذہ اور طلباء سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مولانا لیاقت علی قمی نے علامہ مقصود علی ڈومکی کو سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک کا تحفہ پیش کیا۔ ملاقات کے دوران دینی، تعلیمی اور تبلیغی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔







