امریکی انٹیلی جنس رپورٹ: ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیت اب بھی برقرار
شیعیت نیوز: امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے کے مطابق ایران اب بھی نمایاں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا حامل ہے، باوجود اس کے کہ گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اہداف پر مسلسل حملے کیے گئے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ ہزاروں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھی اس کے ذخیرے میں موجود ہیں، جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا کو سخت انتباہ، پاور پلانٹس پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب کا اعلان
یہ امریکی انٹیلی جنس جائزہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دعوؤں سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے، جنہوں نے عوامی طور پر کہا تھا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں “ڈرامائی طور پر کم” ہو گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کو قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل لانچرز اور ہتھیاروں کی فیکٹریاں تباہ ہو چکی ہیں اور “بہت کم بچے ہیں”۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک ایران کے 12,300 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ان حملوں سے ایران کی فوجی صلاحیت میں کمی آئی ہے اور کچھ اہم رہنما بھی مارے گئے ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور تقریباً 50 فیصد ڈرون اپنی صلاحیت کے ساتھ فعال ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق میزائلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن مکمل تباہی نہیں ہوئی۔ سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے 90 فیصد کم ہو گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹ پر تنقید کرنے والے صدر ٹرمپ اور امریکی فوج کی کارکردگی کو کم تر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت محدود ہو رہی ہے اور امریکا و اسرائیل فضائی برتری حاصل کر چکے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق فعال ایرانی لانچرز تقریباً 20 سے 25 فیصد ہیں، جبکہ زیر زمین یا غاروں میں چھپائے گئے لانچرز اس میں شامل نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے لانچرز کے زیر زمین منتقل ہونے اور مسلسل نقل و حرکت کی وجہ سے امریکی حملے انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے۔ ایران نے برسوں پہلے اپنے لانچرز کو محفوظ رکھنے کے لیے غاروں اور سرنگوں کا وسیع نظام قائم کر رکھا تھا، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایرانی بحریہ کے پاس بھی تقریباً آدھی صلاحیت باقی ہے، جس میں سیکڑوں یا ہزاروں چھوٹے بحری جہاز شامل ہیں۔ ان کا کردار خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کرنا بتایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران کی مکمل عسکری صلاحیت کو ختم کرنا مقصود ہو تو ابھی بھی کئی اہداف باقی ہیں، جن میں پراکسی فورسز اور ڈرون نیٹ ورک شامل ہیں، جو سمندری راستوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔







