شہید رہبر کا ہر حال میں بدلہ لیں گے، جہاں سے حملہ ہوجائے جواب دیا جائے گا، علی لار یجانی

08 مارچ, 2026 11:55

شیعیت نیوز : ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایرانی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سخت لہجے میں کہا ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ کیا گیا تو تہران بھرپور جواب دے گا، کیونکہ اپنی حاکمیت کا دفاع ایران کی مستقل اور واضح پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا آذربائیجان کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، تاہم اگر اس ملک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی قسم کی سازش یا فضائی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔ لاریجانی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، بصورت دیگر ایران خود اس کا راستہ روکے گا۔

ان کے مطابق خطے کے دو ممالک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم تہران کو اس بارے میں شکوک ہیں۔

لاریجانی نے کہا کہ جب دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر خالی مقامات، اسکولوں، اسپتالوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ایران کے خلاف دشمن کی منصوبہ بندی میں حکومت کا خاتمہ، عوام کو سڑکوں پر لانا اور ملک کو تقسیم کرنا شامل تھا، لیکن یہ تمام منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایران اسے بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور اسے ایسا سبق سکھائے گا کہ آئندہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے نئے سپریم لیڈر کا باضابطہ انتخاب مکمل

لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران کے میزائل حملے اسرائیل کے لیے نہایت دردناک ثابت ہو رہے ہیں اسی لیے وہاں حملوں کی تصاویر شائع ہونے نہیں دی جاتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہید امام خامنہ ای پر حملے کے نتائج امریکہ اور اسرائیل کے لیے بہت مہنگے ثابت ہوں گے اور ایران اس کا بدلہ لیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا، تاہم موجودہ جنگ کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ ایران جنگ کو طول دینے کا خواہاں نہیں، لیکن جارحیت کرنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے۔

یورپی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ اگر انہوں نے اس جنگ میں عملی طور پر شرکت کی تو ایران کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

5:37 صبح مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top