دہشت گرد ٹرمپ کی عراق کے ایران نواز شیعہ رہنما نوری المالکی کی ممکنہ وزارت عظمیٰ پر عراق کو دھمکی، امریکی سامراجی مداخلت کی نئی مثال

28 جنوری, 2026 16:08

شیعیت نیوز: دہشت گرد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عراقی عوام کی خودمختاری اور انتخابی عمل میں کھلم کھلا مداخلت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر سابق وزیراعظم اور ایران نواز شیعہ سیاست دان نوری المالکی عراق کے وزیراعظم بنے تو امریکہ عراق کی تمام مالی، فوجی اور سیاسی حمایت منسوخ کر دے گا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں جھوٹا نعرہ لگایا کہ "عراق کو دوبارہ عظیم بنائیں” مگر ساتھ ہی واضح کر دیا کہ عراقی عوام کا اپنا فیصلہ امریکہ کو منظور نہیں۔ یہ بیان امریکی سامراج کی اس حقیقت کو بے نقاب کر رہا ہے کہ وہ عراق میں صرف اپنے پٹھو اور اسرائیل نواز عناصر کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے، نہ کہ شیعہ اکثریت کے منتخب نمائندوں کو۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں آج مختصر فاصلے والے میزائل کی مشقیں شروع، نئے یا مشابہ میزائل کا تجربہ

نوری المالکی، جو عراقی شیعہ اتحاد کے اہم رہنما اور سابق وزیراعظم ہیں، عراقی عوام میں مقبول ہیں اور انہوں نے ہمیشہ امریکی قبضہ اور داعش دہشت گردی کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ ٹرمپ کی یہ دھمکی دراصل عراقی عوام کی مرضی اور خودمختاری پر حملہ ہے۔

یہ وہی ٹرمپ ہے جس نے عراق میں لاکھوں شہریوں کے قتل عام کی حمایت کی، داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بالواسطہ فائدہ پہنچایا اور اب بھی خطے میں آگ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراقی عوام اور خطے کے مزاحمتی رہنما اس دہشت گرد کو جانتے ہیں کہ وہ امن کا نہیں بلکہ تباہی اور غلامی کا پیغام لے کر آیا ہے۔

11:34 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top