یمن میں سعودی اور اماراتی گروہوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں، امریکا انہیں انصاراللہ کے خلاف متحد کرنے کی کوشش میں مصروف
شیعیت نیوز : یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت کے دوران امریکا انہیں انصاراللہ کے خلاف متحد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
عرب امارات کی حامی جنوبی عبوری کونسل ملک کے مشرقی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوں کو وسعت دے رہی ہے۔ یہ اقدام بظاہر حضرموت اور المہرہ صوبوں کی سکیورٹی کے نام پر کیا جا رہا ہے، تاہم اصل ہدف شمالی علاقوں کی جانب پیش قدمی ہے۔
ذرائع کے مطابق انصاراللہ کے خلاف شمالی محاذوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اماراتی حمایت یافتہ گروہوں پر حضرموت اور المہرہ سے پسپائی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ اینٹی کرپشن بعض معاملات میں تعصب کی بنیاد پر کارروائی کر رہا ہے، آغا راحت حسین
دوسری جانب امریکہ کا ماننا ہے کہ یمن میں سعودی اور اماراتی گروہوں کے درمیان اختلافات ختم ہونا چاہیے تاکہ دونوں فریق انصاراللہ کے خلاف متحد ہو سکیں۔
اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ نے حال ہی میں اپنے اماراتی ہم منصب سے یمن کے جنوبی علاقوں میں استحکام کی ضرورت پر بات چیت کی ہے۔ یمن کے جنوب سے تعلق رکھنے والے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امارات اپنے زیر اثر گروہوں کو انصاراللہ کے مقابلے کے لیے یکجا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یمن میں امریکہ کے سفیر نے بھی نام نہاد صدارتی کونسل کے ارکان اور جنوبی عبوری کونسل کے سرگرم کارکنوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی ہیں، جن میں انصاراللہ کے خلاف اتحاد پر زور دیا گیا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اماراتی حمایت یافتہ گروہوں نے گزشتہ دو روز کے دوران صوبہ المہرہ کے باقی ماندہ سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور فوجی سازوسامان حضرموت کی جانب منتقل کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں سعودی جنگی طیارے مسلسل حضرموت کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں، جبکہ ایسے ڈرونز بھی دیکھے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اماراتی گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس مشن انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حضرموت اور المہرہ سے اماراتی گروہوں کے انخلا کے لیے سعودی دباؤ ناکام ہو چکا ہے، جس کے بعد ممکنہ جھڑپوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ان جھڑپوں میں سعودی حمایت یافتہ گروہوں کی موجودگی اور ریاض کی فضائی مدد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے یمن کے مشرقی علاقوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔







