ایرانی بحریہ نے اقیانوسوں میں 2 سال تک خودکفیل رہنے والا تیرتا شہر تیار کر لیا
شیعیت نیوز: ایرانی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل شہرام ایرانی نے ریڈیو چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بحریہ کی نئی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات شہداء کے خون کی پاسداری اور دفاعی پالیسیوں کے نفاذ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بحریہ کے دو بنیادی مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بحری ترقی کی 9 پالیسیوں پر عمل درآمد اور ہر اقیانوس میں مستقل موجودگی یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے لیے کردستان نامی فلوٹنگ بیس ڈیزائن اور بحری بیڑے میں شامل کیا گیا ہے جبکہ سہند ڈسٹرائر کو جدید صلاحیتوں کے ساتھ دوبارہ بحری بیڑے میں شامل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی بحریہ نے اقیانوسوں میں مستقل بیس قائم کر لیا، فلوٹنگ شہر ’کردستان‘ تیار
ایڈمرل شہرام ایرانی نے 2023ء میں بحری بیڑہ 86 کی کارروائیوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کردستان فلوٹنگ بیس ایک سے دو سال تک سمندر کی گہرائیوں میں مسلسل موجود رہ سکتا ہے اور پانی، ایندھن، خوراک اور علاج سمیت تمام ضروریات خود پوری کر سکتا ہے۔ یہ بیس مکمل اسپتال، ہیلی پیڈ، دفاعی نظام اور طویل قیام کے لیے رہائشی سہولیات سے لیس ہے اور ایک تیرتے ہوئے بندرگاہی شہر کا کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقیانوسی ماحول میں جانا ناخدا کے ہاتھ میں ہے اور زندہ واپس آنا خدا کے ہاتھ میں۔ ان سخت حالات میں جدید ٹیکنالوجی سب سے اہم ہے۔ خوش قسمتی سے آج سطحی، زیرِ سطحی اور فضائی شعبوں کی تمام ٹیکنالوجیز ملک کے اندر ہی تیار ہو رہی ہیں۔
کمانڈر نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ صحت و علاج کے شعبے میں بھی ٹیلی میڈیسن سسٹم کے ذریعے اقیانوس کی گہرائیوں میں ایران کی تمام طبی صلاحیتوں تک رسائی ممکن بنا دی گئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ مستقل بحری موجودگی درحقیقت مقامی علم و صنعت پر مبنی بحری سرحدوں کی توسیع ہے۔ اس کا پیغام دنیا کو یہ ہے کہ ایران نے وہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے جو اسے سخت ترین بحری ماحول میں بھی مکمل خودکفیل اور منظم رکھتی ہے۔ طوفانوں سے گزرنا اور سمندر میں ڈٹ کر کھڑا رہنا قومی وقار کو بلند کرتا ہے۔
آخر میں انہوں نے بحریہ کے مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات شہداء کے آرزوؤں کی تکمیل اور ایرانی عوام کی رضامندی کا باعث بنیں گے۔







