کمانڈر ہیثم طباطبائی کی شہادت کا بدلہ اسرائیل سے ضرور لیا جائے گا: شیخ نعیم قاسم
شیعت نیوز: لبنان کے مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں کمانڈر ہیثم طباطبائی کی شہادت کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا وقت حزب اللہ خود طے کرے گی۔
انہوں نے شہید طباطبائی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید طباطبائی نے نہایت حساس مرحلے پر اہم کردار ادا کیا۔ وہ ایمان، بہادری اور حکمتِ عملی میں بے مثال تھے اور چار برس تک خصوصی فورسز کی قیادت کرتے رہے۔ 2006 کی جنگ کے دوران الخیام کے محاذ پر ان کی مزاحمت دشمن کے منصوبوں کے سامنے مضبوط دیوار ثابت ہوئی۔ دشمن ان کی ہمت توڑنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے میدان میں موجود ہیں جہاں امریکی، مغربی اور عرب خفیہ اداروں کے تعاون سے اسرائیل کھلے عام کارروائیاں کر رہا ہے، لیکن حزب اللہ کی مزاحمت کسی صورت رکے گی نہیں۔ شہید طباطبائی یمن میں بھی مؤثر رہے اور وہاں عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ ان کی شہادت اگرچہ بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی قربانی نے اُن کے مقصد کو مزید مضبوط کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ نہیں چاہتا مگر جھکے گا بھی نہیں، حسن فضل اللہ کا دو ٹوک اعلان
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ کمانڈر ہیثم طباطبائی پر حملہ کھلا جرم اور ننگی جارحیت ہے، اور حزب اللہ خود وقت طے کرکے اس کا بدلہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ مشکل مراحل میں اپنی قوت کو بحال کیا اور نئے کمانڈر تیار کیے۔ موجودہ جنگ بندی بھی حزب اللہ کی بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس نے دشمن کے منصوبے ناکام بنا دیے۔
انہوں نے کہا کہ آج سے ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جس میں لبنانی حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی جارحیت صرف مزاحمت کے خلاف نہیں بلکہ پورے لبنان کے خلاف ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ دشمن کو آزاد علاقوں پر قبضے یا اپنے عناصر کی تعیناتی سے روکے، تاہم ابھی تک کوئی علاقہ آزاد نہیں کرایا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے، مگر اسرائیل جانتا ہے کہ مقاومت کی موجودگی میں وہ لبنان میں قدم نہیں جما سکتا۔ ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ دفاعی تیاری سے فائدہ اٹھائے۔ لبنان میں بہت سے گروہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں، لہٰذا یہ معاملہ صرف مقاومتی بلاک تک محدود نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حامی لبنان میں انتہائی کم تعداد میں موجود ہیں، لیکن یہی چند افراد امریکہ اور تل ابیب کے ساتھ مل کر ملکی استحکام اور ترقی میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ مقاومت کے ہتھیار ہی اسرائیلی منصوبوں کو ناکام بناتے ہیں، اور جو بھی مقاومت کو غیر مسلح کرنا چاہتا ہے، وہ دراصل اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔







