جامعہ الرشید کراچی ایک تکفیری دہشت گرد ساز فیکٹری, یاسر خان کے حیران کن انکشافات
شیعیت نیوز: جامعہ الرشید کراچی 1994ء میں مولانا رشید احمد جالندھری نے قائم کیا۔ یہ مدرسہ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں دیوبندی جہادی نیٹ ورک کا ایک اہم ترین ادارہ بن گیا ۔ اس کے اس وقت کے مہتمم مولانا عبدالرحیم ان پرانے دیوبندی جہادیوں میں سے ایک ہیں ۔
جب افغان جہاد شروع ہوا تو کراچی میں دو مدارس ایسے تھے جنھوں نے اس جہاد میں اپنے طالب علموں کو بھیجنا شروع کیا۔ جامعہ بنوریہ میں مفتی نظام الدین شامزئی نے جمعیت الانصار کے نام سے ایک جہادی تنظیم قائم کی اس میں پاکستانی طلباء میں نمایاں ترین نام سیف اللہ خالد ، مسعود اظہر ، مولانا عبدالرحیم وغیرہ تھے۔
دوسرا مدرسہ اشراف المدارس تھا اس میں مولانا ارشاد جمیل فاروقی کی قیادت میں جمعیت الجہاد کے نام سے تنظیم تشکیل پائی-
ان دونوں گروپوں میں خاص طور پر کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں اور سرائیکی بیلٹ -جنوبی پنجاب ، اور کے پی کے پشتون اکثریت کے علاقوں سے یہاں پڑھنے کے لیے آنے والے طلباء اور علماء بھرتی ہوئے۔
یہ دونوں تنظیمیں باہم مدغم ہوگئیں اور اس کا نام حرکتہ الجہاد الاسلامی رکھا گیا۔ اس تنظیم میں قندھار سمیت افغانستان کے کئی علاقوں سے دیوبندی طلباء اور علماء بھی اس تنظیم کا حصہ بنے ۔ ملا عمر بھی اسی تنظیم کا حصہ تھے ۔
1994ء میں مولانا عبدالرحیم اور مولانا رشید احمد جالندھری نے مل کر جامعہ الرشید کی بنیاد رکھی ۔ مولانا عبدالرحیم افغان طالبان کی تشکیل میں پیش پیش رہے اور ان کا ملا عمر سمیت افغان طالبان کی قیادت سے براہ راست روابط تھے ۔
اسی مدرسے سے 1997ء میں ہفت روزہ ضرب مومن کا اجراء ہوا۔ یہ اخبار پاکستان میں تحریک طالبان افغانستان اور ان کی افغانستان میں حکومت کا ترجمان اخبار سمجھا جاتا تھا ۔
اس اخبار میں بہت سارے لوگ اپنے اصلی اور قلمی ناموں سے لکھتے تھے ۔ بہت منظم پروپیگنڈے پر مبنی یہ ہفت روزہ اخبار تھا اور انٹیلی جنس رپورٹس جن میں سے چند میری نظر سے گزریں میں اس کی اشاعت پانچ لاکھ تک بتائی گئی تھی ۔
یہ اخبار پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبر پختون خوا ، قبائلی ایجنسیوں میں دور دراز علاقوں تک میں تقسیم ہوتا تھا ۔ پھر یہ باقاعدہ روزنامہ اسلام کا ہفت روزہ / ویکلی میگزین بنا اور روزنامہ ملک کے کئی شہروں سے یہ بیک وقت شایع ہوا کرتا تھا ۔ اس اخبار کی ایجنسیاں ، رپورٹرز زیادہ تر مذھبی مدارس سے تعلق رکھتے تھے ۔
جنرل مشرف کے دور میں اس جامعہ کے ٹرسٹ پر پابندی لگ گئی تو یہ دوسرے نام سے ٹرسٹ بنا لائے۔
"ضر مومن” میں سب سے مقبول ترین مضمون نگار "یاسر خان ” تھا ۔ اس کی تحریروں سے یہ لگتا تھا کہ وہ افغان طالبان کے اہم ترین فیلڈ کمانڈروں میں سے ایک ہے جو اس تنظیم کے تمام اہم ترین معرکوں میں بذات خود شریک رہا ہے۔ وہ طالبان کی فتوحات ، جنگی معرکوں کی کہانیاں ایسے بیان کرتا کہ نقشہ کھینچ کر رکھ دیا کرتا تھا ۔
امارت اسلامی افغانستان کی کارکردگی اور اس حکومت کے کارناموں پر اس نے سینکڑوں مضامین لکھے جس سے لگتا تھا کہ افغانستان نے ایسی عوام دوست حکومت کبھی تاریخ میں نہیں دیکھی تھی جو خلافت راشدہ کا عملی ماڈل افغانستان میں نافذ کرچکی تھی ۔ ان ہی دنوں میں اس نے سلسلہ وار مضامین میں یہ دکھایا کہ افغان طالبان حکومت نے کس طرح سے افغانستان میں پوست کی کاشت بالکل ختم کردی اور لاکھوں ایکٹر اراضی پر کیسے دیگر فصلیں کاشت ہورہی تھیں اور افغانستان گندم ، چاول سمیت کئی خوردنی فصلوں میں خود کفالت کی منزل پاچکا تھا۔ یہ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت اور ان سے استفادہ کرنے کی کئی کہانیاں بھی بیان کرتا رہا۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس سے قبل مشرف نے آئی ایس آئی کے ڈی جی کے ساتھ جن علماء کو ملا عمر اور اسامہ بن لادن سے ملاقات کے لیے بھیجا ان میں مفتی نظام الدین شامزئی کے علاوہ مولانا عبدالرحیم بھی شامل تھے ۔ یاسر خان اس دوران بھی لکھتے رہے اور وہ بلاشبہ لاکھوں لوگوں کے مقبول ترین لکھاری ہی نہیں بلکہ پراسرار غازی تھے –
یہ غازی تیرے پر اسرار بندے
بخشا ہے جن کو تونے ذوق خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
مشرف کے آخری دنوں میں جامعہ الرشید کے ساتھ تعلقات میں خرابی آئی سب سے بڑی وجہ لال مسجد آپریشن تھا ۔ اور معاملات کافی عرصہ بگڑے رہے ۔ روزنامہ اسلام اور اس کی دیگر پبلیکیشنز بھی رفتہ رفتہ ترجیحات میں نہ رہیں ۔ جامعہ الرشید نے اپنا یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا حب تعمیر کیا ۔ یاسر خان انھی دنوں پھر غائب ہوگئے۔
یہ یاسر خان ہمارے جاوید چودھری تھے ۔ جاوید چودھری کا گجرات کے قصبے کنجاہ سے کیسے ہمارے قومی منظر نامے پر وارد ہوئے یہ پھر ایک الگ کہانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس کا اسلام آباد کچہری خودکش حملہ کی مذمت، شہداءکی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا
جاوید چودھری کی شہرت جب کنجاہ قصبے تک تھی تب بھی ان میں خداداد صلاحیت یہ تھی کہ یہ فرمائش پر کمال کی تحریر لکھا کرتے تھے ۔ آپ ان سے کہتے کہ بھئی جوتوں کی دکان کھولی ہے ، اس پہ کچھ لکھ دیں تو جناب یہ کمال ہی کر دیتے ۔
کنجاہ میں کم ظرف حاسدین نے انھیں کنجاہ کی صحافتی طوائف کے بدترین لقب سے بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن جاوید چودھری کا یہ حاسدین اور ایسے لقب کچھ نہ بگاڑ سکے ۔
جاوید چودھری مستقل مزاجی سے جیسے ہیں ویسے ہی رہے ہیں اپنے اصل نام کے ساتھ یہ نہ کبھی جمہوریت پسند بنے نہ کبھی یہ انقلابی بنے نہ یہ آزادی صحافت کے علمبردار بن کر سامنے آئے ۔
انھوں نے اپنے کمرشل ازم کو کوئی نام نہیں دیا ۔باقی ٹھیکے پہ جو مرضی ان سے لکھو آئے اور وہ بھی تب تک جب تک ویسا لکھنا اصل مالکان کے ہاں مستوجب سزا نہ ٹھہرے ۔
جب جامعہ رشید والوں کے اصل مالکان سے تعلق بگڑے تو انھوں نے یاسر خان کی خدمات واپس لے لیں ۔ لیکن یہ بھی نہ کیا کہ جامعہ الرشید کی کہانیاں باہر لیکر آئے ہوں ۔
ایک مرتبہ جاوید چودھری ہالیڈے ان/ رمادہ ابدالی روڈ ملتان اپنی بنائی ایک پی آر کمیپنی کی ترویج و تشہیر کے پروگرام میں ائے تھے ۔ اس تقریب کے بعد جب چند مخصوص لوگوں کے ساتھ وہاں مجھے بیٹھنے کا موقعہ ملا تو میں نے انہیں "جاوید چودھری عرف یاسر حان ” کہہ کر مخاطب کیا تو وہاں موجود سب لوگ چونک اٹھے تھے لیکن جاوید چودھری صاحب کی مہربانی ، انہوں نے بات ہنسی مذاق میں اڑا دی تھی ۔ وہ نہ تو برہم ہوئے ، نہ انہوں نے مجھے حقارت سے دھتکارنے کی کوشش کی ۔ یہ وصف میں نے حامید میر عرف ابو معاذ میں بالکل نہیں پایا ۔ اسلام آباد جب وہ اپنا پروگرام کیپٹل نیوز برلب سڑک منعقد کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ایسی کون سی آفت آن پڑی تھی کہ آپ کو "غزوہ” میں لکھنے کے لیے "ابومعاذ” قلمی نام سے "جہادی خیالات ” کی ترویج و تشہیر کرنا پڑی ۔ انھوں نے مجھ سے اچھی خاصی بدتمیزی کی تھی ۔ شاید وہ اس اصول پر عمل پیرا تھے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئیے
میرے ایک عزیز جو انٹیلی جنس بیورو سے ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ لاہور میں ان کی ڈیوٹی تھی اور اچبارات کےدفاتر میں اس ایجنسی کے سورسز سے رابطے کی ذمہ داری ان کی تھی ۔ ان دنوں حامدمیر کی ڈیوٹی روزنامہ جنگ لاہور کے فیکس روم میں ہوا کرتی تھی اور فیکس روم میں آنے والی مطلوبہ خبروں کی نقل نیوز ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے ڈیسک پر پہنچنے سے پہلے ان کی نقول اس ایجنسی کے دفتر پہنچ جایا کرتی تھی ۔ میرے عزیز اور بھی بہت سی ناگفتنی باتیں بیان کیا کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں جنرل ضیاء الحق غلط نہیں کہتے تھے کہ کئی جغادری صحافی ایسے تھے کہ وہ شراب کی ایک بوتل پہ اپنی ماں کو بیچ دیتے ۔۔۔۔ میں انہیں کہا کرتا ہوں چلو "کچھ کم ظرف مئے خواروں کی ام فروشی کا قصّہ تو بیان کر دیا، اب ان صحابان جبّہ و دستار اور اقبال کے شاہینوں کی "دین فروشی ” کا قصہ تو سنائیں جنھوں نے اس ملک میں جمہوریت دفن کرنے والے گورگن کے بیلچے سے اسلام کو دفن کردیا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہنس کر ٹال جاتے لیکن ایک دن موج میں انھوں نے اشاروں و کنایوں میں کئی پردہ نشسینوں کے نام لیے۔۔۔۔۔ اس ملک اور عوام سے دائیں اور بائیں دونوں کمیپوں میں ایسے گدھ تھے جو جمہوریت کی لاش کو نوچ نوچ کر کھاتے رہے
ہر کذب کو صداقت کل کا ملا خطاب
پھر اس کو مصلحت کا تقاضا کہا گیا
جامعہ الرشید کے تعلقات پھر سے اصل مالکان سے بہتر ہوگئے ہیں ۔ جامعہ الرشید کے ساتھ ساتھ اب یہ سندھ اسمبلی سے چارٹر ایکٹ کے ذریعے ایک نئی یونیورسٹی الغزالی بھی چلارہے ہیں ۔
اس ادارے کے متعدد لوگ پاکستان کے کئی کمرشل بینکوں میں الشریعہ سرمایہ کاری فنڈز بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔ کئی مبارکہ میوچل فنڈز یہ مینیج کرتے ہیں ۔ یہ چاہیں تو ایک چھوڑ کئی پرائیویٹ ٹی وی چینل لانچ کرسکتے ہیں ۔
عالمی اور علاقائی جیو پالیٹکس میں مقامی اور علاقائی طاقتوں کے کیے معاون نیٹ ورک بننے سے ان کی تقدیر بدل گئی ۔ مولانا عبدالرحیم پاکستان اور پاکستان سے باہر لاکھوں لوگوں کے مرجع عقیدت ہیں ۔ اور جہادیوں میں وہ امیر المجاہدین کہلاتے ہیں – آئی ایس پی آر کے ترجمان بھی جامعہ الرشید ، غزالی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء سے خطاب کرچکے ہیں ۔ ان کے درمیان مضبوط روابط ہیں۔ یہاں سے طلباء اور اسکالر آئی ایس پی آر اور نیشنل ڈیفینس کالج میں ابلاغ اور ترسیل پیغامات کے کئی تزویراتی کورسز کرنے میں مصروف ہیں ۔ رہے نام اللہ کا







