اسرائیل نے غزہ کے درجنوں شہریوں کو زیرِ زمین جیل میں قید کر رکھا ہے، گارڈین کا انکشاف

09 نومبر, 2025 10:09

شیعیت نیوز: برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کے درجنوں فلسطینی شہریوں کو ایک خفیہ زیرِ زمین جیل میں قید کر رکھا ہے، جو ایالون جیل کے زیرِ انتظام ہے۔ ان قیدیوں کو سورج کی روشنی، بیرونی دنیا سے رابطے اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ ان فلسطینی قیدیوں کو جان بوجھ کر اذیت ناک اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ ان میں ایک نرس اور ایک 18 سالہ نوجوان دکاندار بھی شامل ہیں، جن پر کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔ یہ تمام افراد دیگر اسرائیلی حراستی مراکز کی طرح شدید مار پیٹ اور بدسلوکی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دھمکیوں اور زبردستی کے ذریعے ترامیم منظور کرانا پارلیمانی وقار کی توہین ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

گارڈین کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ بدنامِ زمانہ زیرِ زمین جیل دراصل 1980 کی دہائی میں صہیونی جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان کے لیے تعمیر کی گئی تھی، تاہم بعد میں بند کر دی گئی تھی۔ لیکن طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد اسرائیل کے وزیرِ برائے داخلی سلامتی ایتمار بن گویر کے حکم پر اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بن گویر ماضی میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی پر فخر کا اظہار کر چکے ہیں۔ زیرِ زمین اس جیل میں قیدیوں کو نہ صرف تشدد اور تذلیل کا سامنا ہے بلکہ ان پر کتے چھوڑے جاتے ہیں، انہیں علاج، خوراک اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ان غیر انسانی اقدامات کی فوری تحقیقات کرے اور قید فلسطینی شہریوں کی رہائی اور تحفظ کو یقینی بنائے۔

10:49 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top