آیت اللہ آملی لاریجانی کا اسرائیل کو واشنگٹن کا پالتو جانور قرار دینے والا بیان
شیعیت نیوز : مدرسہ علمیہ حضرت ولی عصرؑ قم میں نئے تعلیمی سال کے پہلے درس خارج اصول فقہ سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ آملی لاریجانی نے 12 روزہ جنگ کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ ایران چند دنوں میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا، مگر عوام نے اختلافات اور معاشی مسائل کے باوجود اسلام اور وطن کے دفاع میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور یہی اتحاد ملت کی اصل طاقت ہے۔
انہوں نے اس جنگ کو دراصل امریکہ کے ساتھ براہِ راست مقابلہ قرار دیا اور اسرائیل کو "واشنگٹن کا پالتو جانور” کہا، یہ واضح کرتے ہوئے کہ اگر امریکی حمایت نہ ہو تو اسرائیل کا وجود باقی نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے چوتھے اور پانچویں دن ہی امریکہ کو براہِ راست مداخلت کرنی پڑی۔
آیت اللہ آملی لاریجانی نے شہید کمانڈروں کی جگہ فوری نئے کمانڈروں کی تعیناتی اور رہبر معظم انقلاب کی اطمینان بخش قیادت کو "نصرت الٰہی کی علامت” قرار دیا اور کہا کہ رہبر معظم نے اپنے حکیمانہ بیانات اور مشوروں سے عوام اور محاذِ مقاومت کو استقامت بخشی۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 150 سے تجاوز
تبلیغ دین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ بعض منبروں پر غیر مستند خوابوں اور کمزور تعبیرات کے ذریعے دین کو پیش کیا جا رہا ہے، جو درست نہیں۔ ان کے مطابق تبلیغ ہمیشہ اجتہاد اور اصولی بنیادوں پر ہونی چاہیے تاکہ اسلام کی صحیح شناخت ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کا معاشرہ پہلے سے زیادہ اسلام کی صحیح پہچان اور اخلاقی اقدار پر عمل کا محتاج ہے۔ انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اپنی لامحدود آخرت کے سفر میں کس زادِ راہ کے ساتھ جا رہا ہے۔ اگر دل زنگ آلود ہو جائے تو وہ روحانی رزق سے محروم رہ جاتا ہے۔
آیت اللہ آملی لاریجانی نے زور دیا کہ روحانیت کی پرواز کے لیے دو پروں کی ضرورت ہے: "دین کی صحیح شناخت” اور "دینی عمل”۔ عالمِ دین کو کتاب و سنت کے فہم کے ساتھ ساتھ اپنی عملی زندگی میں بھی اس کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ ان کے دروس خارج ہفتے میں چار دن مدرسہ علمیہ حضرت ولی عصرؑ قم میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں خارج اصول میں "علم اجمالی” اور خارج فقہ میں "کتاب الصوم” زیر بحث ہیں۔







