ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس: حکومت اسلامی قانون کے خلاف قانون سازی سے باز رہے

24 جولائی, 2025 22:10

شیعیت نیوز : ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا اہم قومی مشاورتی اجلاس اسلامی تحریک کی میزبانی اور کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی زیر صدارت اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی نظامت لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ اس میں جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان، اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی سمیت کونسل کی تمام جماعتوں کے سربراہان، مرکزی کابینہ اور بعض صوبائی صدور شریک ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان کو آئینی و معاشی انصاف دیا جائے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

٭ ملکی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے، قومی وحدت کو سرکاری تفرقہ انگیزی اور متعصبانہ پالیسیوں نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں قوم متحد ہو کر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی، لیکن فتح کے بعد اندرونی بحرانوں کو سنبھالنے کی بجائے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے رویے جمہوریت اور آئین کے منافی ہیں۔

٭ اسلامی جمہوری ایران کی استقامت کو سراہا گیا اور امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی قوم کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام اس کا حق ہے۔

٭ پاک افغان تعلقات کی بحالی، سفارتی بہتری اور چین کے مثبت کردار کو سراہا گیا۔ دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے شکایات ختم کرنی چاہئیں۔

٭ ترکی، ایران، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط دفاعی، سائنسی، تجارتی اور سفارتی بلاک کو ملت اسلامیہ کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

٭ اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ پر بمباری، نسل کشی، بستیوں کی مسماری اور قحط کے ذریعے فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کا وجود ناجائز ہے، اس کا خاتمہ عالمی امن کی شرط ہے۔

یہ بھی پڑھیں : تحفظ ناموس (بنوامیہ) بل کے پیش کار حافظ عبدالکریم دوبارہ سینیٹر منتخب، کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی مبارکباد

٭ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر عالمی برادری کی خاموشی شرمناک ہے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔

٭ طوفانی بارشوں میں جاں بحق ہونے والے خاندانوں سے تعزیت، حکومت سے فوری امدادی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

٭ معاشی تباہی کا ذمہ دار کرپشن، سودی نظام اور حکمرانوں کی عیاشیاں ہیں۔ سود کے خاتمے اور اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔

٭ امن و امان کی بگڑتی صورتحال، خاص طور پر خیبرپختونخوا میں، دہشت گردی اور عوامی عدم تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

٭ بلوچستان کے حالات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور لاپتہ افراد کی بازیابی، صوبائی خودمختاری اور وسائل پر اختیار کی حمایت کی گئی۔

٭ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے شرعی، آئینی اور قومی اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔ حکومت شعائر اسلام کے خلاف قانون سازی فوری واپس لے، ورنہ ملک گیر احتجاج ہوگا۔

٭ ہائبرڈ نظام، آئین شکنی اور عدلیہ و جمہوریت پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قومی ڈائیلاگ پر زور دیا گیا۔

٭ گلگت بلتستان میں امن قائم کرنے اور انڈیا کی سرپرستی میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

٭ مدارس دینیہ کے تحفظ، ضروریات کی فراہمی، اور ان کے خلاف اقدامات کی مخالفت کی گئی۔ اگر حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے عوامی تحریک چلائی جائے گی۔

10:49 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔