غزہ قحط کا شکار! اہلِ غزہ پانی اور نمک پی کر زندہ

22 جولائی, 2025 18:07

شیعیت  نیوز:قابض اسرائیلی ریاست کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ تباہ کن محاصرے نے شہر کو ایک مکمل اور حقیقی قحط کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ دن بہ دن حالات بگڑتے جا رہے ہیں، عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی صرف بھوکے بچوں کی چیخوں اور ماؤں کی سسکیوں سے توڑی جا رہی ہے۔

غزہ آج صرف محصور نہیں، بلکہ وہ ایک زندہ لاش بن چکا ہے۔ بنیادی غذائی اشیاء ختم ہو چکی ہیں، بازار خالی ہو چکے ہیں، جو اشیاء دستیاب ہیں ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ہزاروں خاندان اب پانی اور نمک سے پیٹ بھرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

شمالی غزہ سے بے دخل ہونے والے ایک فلسطینی سعید النجار جو آٹھ بچوں کے باپ ہیں نے  گفتگو میں کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے بچے اگلے چند گھنٹوں میں "پانی اور نمک” کے دور میں داخل ہونے والے ہیں کیونکہ اب روٹی تک کا بندوبست ممکن نہیں رہا۔

سعید کہتے ہیں "آٹا اب 110 شیکل فی کلو ہو چکا ہے، اور میرے پاس تو ایک شیکل بھی نہیں۔ نہ میرے پاس خود کھانے کو کچھ ہے نہ بچوں کو دینے کے لیے”۔

ان کا کہنا ہے کہ”میں اپنے ہمسایوں کو دیکھتا ہوں، خاص طور پر بوڑھے مرد، عورتیں بھوک اور تھکن سےنڈھال ہیں۔ انہیں ہسپتال لے جایا جاتا ہے، لیکن ہسپتال بھی بھر چکے ہیں۔ اب وہاں بھی گنجائش نہیں بچی”۔

رنا جبر نامی ایک ماں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے "جھوٹ موٹ کا شوربہ” بناتی ہیں۔

تین دن سے نوالہ تک نہیں کھایا، لیکن بچوں کے بھوک سے تڑپتے چہرے دیکھ کر وہ پانی، نمک اور تھوڑی سی مرچیں ابال کر بچوں کو بتاتی ہیں کہ یہ شوربہ ہے۔

رنا کہتی ہیں کہ”بچوں کو بہلانے کے لیے کچھ تو کرنا ہوتا ہے لیکن بھوک ظالم ہے، بچوں کی چیخیں میرے دل میں چھریاں چلاتی ہیں”۔

وہ اپنی کیفیت کچھ یوں بیان کرتی ہیں "بھوک پیٹ میں ایسے چبھتی ہے کہ نیند نہیں آتی۔ صرف پانی پیتی ہوں کہ شاید درد کم ہو… مگر کچھ فائدہ نہیں۔ بس اللہ ہی رحم کرے”۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایمرجنسی وارڈز میں قحط کا شکار افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

وزارت کے مطابق متعدد بچے مکمل طور پر نڈھال ہو چکے ہیں۔ کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں۔

ایک سرکاری بیان میں وزارت نے بتایا کہ سینکڑوں شہریوں کے جسم صبر و برداشت کی آخری حدیں پار کر چکے ہیں۔ صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

10:49 صبح اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔