اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے میں مولانا حامد الحق سمیت 4 افراد جان بحق

28 فروری, 2025 13:41

شیعیت نیوز: پاکستانی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق خودکش دھماکے میں 4 افراد جان بحق ہوئے، جن میں مولانا حامد الحق بھی شامل ہیں۔ خودکش دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جائے وقوع سے فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی، جب کہ امدادی ٹیموں اور مقامی افراد نے ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو نکالا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا خودکش تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاراچنار: فیول، یونیفارم اور اسٹیشنری نہ ہونے کے باعث تمام اسکول بند

ایکسپریس نیوز کے مطابق، ایک سینئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ دھماکے میں مولانا حامد الحق کو ٹارگٹ کیا گیا۔ مسجد کے ساتھ ملحقہ ایریا میں مولانا حامد الحق کو نشانہ بنایا گیا۔ اکوڑہ خٹک مدرسے میں پولیس کے 23 اہلکار ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ مولانا حامد الحق کو 6 پولیس اہلکار سکیورٹی کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔ اکوڑہ خٹک مدرسے کے انٹری گیٹس پر مدرسہ انتظامیہ کی بھی سکیورٹی موجود تھی۔

سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اکوڑہ خٹک دھماکا خودکش تھا۔ دھماکے میں مولانا حامد الحق شدید زخمی ہوئے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہو گئے۔ حملہ آور مسجد کے ساتھ گیٹ سے داخل ہوا۔ جائے وقوع سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

6:34 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔