شاہراہ بلتستان پر جنازے اٹھاتے رہیں گے یا حکومت جاگے گی؟ : کاظم میثم
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے گلگت بلتستان میں صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد کاظم میثم نے کہا ہے کہ شاہراہ بلتستان پر آئے روز حادثات کے سبب لوگوں کے گھروں سے جنازے اٹھ رہے ہیں مگر حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ بتایا جائے کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ کیا ہماری قسمت میں لاشیں اٹھانا ہی لکھا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاہراہ بلتستان کی تعمیر کے بعد یہاں کے لوگوں کو سفری سہولیات ملیں گی مگر ہماری امیدیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب سے بڑا فورم اسمبلی ہے جہاں ہم نے کھل کر سکردو روڈ کا معاملہ اٹھایا ہے، مگر حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جولانی نے پاکستانی تکفیریوں کے منہ پر کالک پھیر دی: اسرائیل کی حمایت میں بیان
انہوں نے کہا کہ روڈ کے بننے سے اب تک سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں، روز کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا ہے، اور اس شاہراہ پر سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حکومت سنجیدہ ہو تو شاہراہ پر ٹنلز بنانا یا حفاظتی شیڈز بنانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ریاست اور حکومت ہی چاہے تو کل ہی ٹنلز اور شیڈز بنانے کا کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ انسان کی جان سے قیمتی شے اور کوئی نہیں ہو سکتی، اور اگر یہاں جنگی بنیادوں پر کام شروع نہ کیا گیا تو بہت بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سکردو روڈ کے اوپر آوازیں اٹھائی جاتی ہیں تو غداری کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں سے زیادہ وفادار کوئی نہیں ہے، مگر ہمیں وفاداری کے سرٹیفکیٹس ان سے لینا پڑ رہے ہیں جو خود ملک کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔







