ایران

ایم ڈبلیو ایم قم کے زیرِاہتمام فلسطین کے حوالے سے "مجلس ِمذاکرہ” کا انعقاد

اگر ملت پاکستان کے سامنے قائداعظم کے نظریات کو رد کرنے کی باتیں کی جائیں گی تو ملکی وحدت اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بابائے قوم کے نام پر یہ ملت متحد ہے،

 شیعیت نیوز: مجلس وحدتِ مسلمین شعبہ قم کے زیرِاہتمام فلسطین کے دو ریاستی حل کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کیلئے ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔

مجلسِ مذاکرہ سے حوزہ علمیہ قم کی فاضل شخصیات نے اپنے مطالعات و تحقیقات کی روشنی میں اپنی آراء پیش کیں۔ نشست کا افتتاحیہ ایم ڈبلیو ایم قم کے صدر حجۃ الاسلام سید شیدا حسین جعفری نے پیش کیا۔

انہوں نے اپنی مقدماتی گفتگو میں دو ریاستی حل کی حقیقت سے نقاب کشائی کی اور کہا کہ دو ریاستی حل سے مراد تقسیمِ فلسطین ہے۔

جو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے اس فارمولے کے مضمرات کا جائزہ لیتے ہوئے حاضرین کو  نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے ایک متنازعہ بیان کی طرف بھی متوجہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے مشترکات اور قائداعظم کی کشمیر و فلسطین پالیسی کا بھی جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  عدلیہ اور وکیل حضرات کو نگران وزیراعظم کی طرف سے بابائے قوم کی اہانت اور ان کے نظریات سے انحراف کرنے کے بعد اُن کی قانونی پوزیشن پر گفتگو کرنی چاہیئے اور قوم کو آگاہ کرنا چاہیئے کہ وہ کتنے بڑے جُرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ان کے علاوہ مجلسِ مذاکرہ سے حجۃ الاسلام عادل مہدوی، حجۃ الاسلام محمد علی شریفی، محترم فاضل محقق بشیر دولتی، مولانا علی محمد رضوانی، علامہ سید قمر شاہ، فاضل محقق محترم منظوم ولایتی اور دیگران نے خطاب کیا۔

مجلسِ مذاکرہ کی کارروائی کو منضبط کرکے سید کمیل گردیزی نے شرکاء کے سامنے خلاصہ پیش کیا۔ جس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:مجلس وحدت مسلمین قم کے سربراہ کی نجف کی کابینہ کو حلف اٹھانے پر مبارکباد
مجلس ِمذاکرہ کا یہ اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ علامہ اقبال اور قائداعظم  کے نظریات ملت پاکستان کی اساس اور بنیاد ہیں۔ ساری قوم علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے نظریات پر متحد ہے اور ہر پاکستانی کو علامہ اقبال اور قائدِ اعظم کا پاکستان ہی چاہیئے۔

علامہ اقبال اور قائدِ اعظم کے نظریات سے انحراف کا نتیجہ بنگلہ دیش کی طرح ملک کے حصّے بخرے کرنے کی صورت میں نکلے گا۔ کسی بھی سرکاری عہدیدار کی طرف سے مصوّرِ پاکستان علامہ اقبال یا بابائے قوم قائداعظم کی توہین اور ان کے نظریات کی نفی کرنا دراصل اپنے قانونی منصب اور مقام کی نفی کرنا ہے۔

ایسا کرنے والوں کے بارے میں پاکستان کے قانونی اداروں اور پارلیمنٹ کو اپنا قطعی فیصلہ سنانا چاہیئے۔

حضرت قائداعظمؒ   کسی سیاسی پارٹی کے کوئی چھوٹے موٹے لیڈر نہیں بلکہ پاکستانیوں کے بابائے قوم اور نظریاتی باپ ہیں۔ ان کے نظریات پر حملہ کسی فوجی بنگلے پر حملے سے زیادہ بڑا جُرم ہے۔

لہذا ملک کے اعلیٰ اور مقتدر قانونی اداروں کو اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیئے۔ اگر اس سلسلے کو یہیں پر قانونی طریقے سے نہ روکا گیا تو ایسی سوچ کا نتیجہ کشمیر کی فروخت اور دیگر صوبوں کی علیحدگی پر منتج ہوگا۔

اگر ملت پاکستان کے سامنے قائداعظم کے نظریات کو رد کرنے کی باتیں کی جائیں گی تو ملکی وحدت اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بابائے قوم کے نام پر یہ ملت متحد ہے، کاکڑ صاحب کا بیان ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی طرف ایک سنگین قدم ہے۔

ملک کو بچانے اور ملکی سلامتی کیلئے ساری ملت پاکستان کو بابائے قوم کی شان میں ہونے والی گستاخی پر سراپائے احتجاج بننا چاہیئے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button