فلسطین میں جنگ بندی کے لئے روس کی حمایت کرتے ہیں، چین
شیعیت نیوز: مغربی ایشیا کے لئے چینی حکومت کے نمائندے نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں چین روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
چینی حکومت کے نمائندہ برائے مغربی ایشیا ژای جون نے کہا ہے کہ بیجنگ فلسطین میں جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لئے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے۔
دوحہ میں روسی نائب وزیرخارجہ میخائل بوگدانوف سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ اور صہیونی جعلی حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لئے چین روس کے ساتھ تعاون کرے گا۔
اسپوٹنک کے مطابق چینی نمائندے نے کہا کہ بیجنگ کو غزہ میں سویلین کے نقصانات پر تشویش ہے اور فلسطین میں امدادرسانی کے کام بدترین حالات سے دوچار ہیں۔
ژای جون نے تاکید کی کہ چین غزہ میں شہری آبادی اور سویلین کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر چین اور روس متفقہ موقف رکھتے ہیں۔ فلسطین میں کشیدگی اور تصادم کی بنیادی وجہ فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی ہے۔
اس سے پہلے چینی وزیرخارجہ نے فلسطین میں متحارب فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ فلسطینی عوام کے ساتھ ظلم و انصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طوفان الاقصی آپریشن کے مقابلے میں ہمیں شکست ہوئی، ایہود باراک کا خفیہ اعتراف
دوسری جانب صہیونی حکومت نے یورپ اور امریکہ کے کئی ممالک میں سفارت خانے کے ملازمین کو گھروں میں محدود رہنے کا حکم دے دیا
الجزیرہ نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت نے مصر، اردن، مراکش، بحرین اور ترکی میں اپنے سفارت خانے بند کردیے ہیں۔
اس سے پہلے صہیونی حکومت کے ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر اعلان کیا گیا تھا کہ وزارت خارجہ نے یورپ اور لاطینی امریکہ کے 20 ممالک میں اپنے سفارت خانے کے ملازمین کو حکم دیا ہے کہ احتجاج مظاہروں اور سیکورٹی کے پیش نظر خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں۔
دوسری جانب عبرانی خبری سایٹ واللا نے خبر دی ہے کہ صہیونی حکومت کی وزارت جنگ کے دفتر میں کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا ہے جس میں غزہ کے خلاف جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔







