اسرائیل میں محاذ آرائی سے لبنان کے ساتھ آبی سرحد کی حد بندی خطرے میں

05 اکتوبر, 2022 07:12

شیعیت نیوز: دونوں ممالک کو امریکی ثالث سے حتمی مسودہ موصول ہونے کے بعد لبنان کے ساتھ آبی سرحد کی حد بندی کے معاہدے پر اسرائیل کا اندرونی تنازعہ سامنے آیا ہے۔

جب کہ قابض حکومت کے وزیر اعظم یائیر لیپڈ اور ان کے وزیر دفاع بینی گینٹز دونوں نے حتمی امریکی تجویز کی تعریف کی۔ حزب اختلاف کے رہ نما بنجمن نیتن یاہو نے معاہدے کو رسوائی قرار دیا جب کہ دیگر نے اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دے کر روکنے کے لیے اسرائیلی عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے اکتوبر کے آخر میں امریکی ثالث کی طرف سے تل ابیب اور بیروت کو پیش کی گئی تجویز کی بنیاد پر قابض اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری سرحدی حد بندی کے معاہدے کے خلاف اپیل پر غور کرنے کے لیے ایک سیشن مقرر کیا۔

اسرائیلی رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے لبنان کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے خلاف اپیل پر غور کرنے کا فیصلہ کیا اور پراسیکیوٹر کو سرحدی حد بندی کے معاہدے کے بارے میں ایک درخواست پر ریاست کا جواب جمع کرانے کے لیے ستائیس اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مغربی کنارے کے علاقوں میں جھڑپوں میں متعدد فلسطینی زخمی

دو اسرائیلی تنظیموں نے اسرائیلی ہائی کورٹ آف جسٹس میں درخواست کی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت کو لبنان کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے حوالے سے کرسٹلائزڈ معاہدے پر دستخط کرنے سے روکا جائے۔

دونوں تنظیموں نے اپنی درخواست کا جواز پیش کیا کہ اسرائیل کی موجودہ عبوری حکومت دستخط کرنے کی مجاز نہیں ہے، کیونکہ ان حالات میں ایسا معاہدہ اس کے لیے ایک عوامی ریفرنڈم کی ضرورت ہے۔

قابض حکومت میں وزیر داخلہ آیلیٹ شیکڈ نے زور دیا کہ کنیسٹ کو لبنان کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے حوالے سے کرسٹلائزڈ معاہدے کی توثیق کرنی چاہیے۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ "حقیقی خود مختار کی نگرانی کے بغیر اس طرح کے اہم معاہدے کو منظور کرنا جائز نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے سرحدی حد بندی کے معاہدے کو شرمناک معاہدہ اور غیر قانونی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا حکومت کسی کو اس معاہدے کا پابند نہیں بنا سکتی۔

6:55 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔