ایران کے اعلیٰ حکام نے واضح طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی تردید کی ہے، میخائل الیانوف
شیعیت نیوز: آسٹریاکے شہر ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے نمائندے میخائل الیانوف نے ایک ٹویٹر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت عرصہ پہلے ایران کے سپریم لیڈر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی مخالفت کرچکے ہیں۔
آسٹریا کے شہر ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے نمائندے میخائل الیانوف نے ایک ٹویٹر پیغام میں ایران کی جوہری پیشرفت کے بارے میں بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے پھیلائی گئی (controversy) پر ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اپنی معلومات کی درستگی کے لئے، ایران ایک زمانے سے سابق امریکی صدر ٹرامپ کی شروع کردہ اور موجودہ صدر بائیڈن کی جانب سے جاری دباؤ کی سیاست کے جواب میں ساٹھ فیصد یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حساس تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنائیں گے، کمال خرازی
میخائل الیانوف نے مزید لکھا کہ ایران کے اعلیٰ حکام بہت پہلے واضح طور پر اعلان کرچکے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو مسترد کرتا ہے۔
ایران کے خلاف عالمی میڈیا کا جنجال (controversy) اس وقت شروع ہوا، جب اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ کمال خرازی نے گذشتہ روز الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسیوں اور بد اعتمادی کی وجہ سے واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت مشکل ہے اور یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ ہمارے پاس ایٹم بم بنانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن ہم نے ایسا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ صرف چند دنوں میں ہم نے یورینیم کی افزودگی کو 20% سے بڑھا کر 60% کر دیا اور ہم اسے آسانی سے 90% تک بھی بڑھا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا اس عزم کا اعادہ کرچکا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیونکہ مہلک ہتھیاروں کی تیاری ہمارے ملک کے فلسفے اور نظریئے میں نہیں ہے۔







