ایران

عالمی ادارے کی رپورٹ، امریکہ کی ایک اور رسوائی، علی بہادری جہرمی

شیعیت نیوز: حکومت ایران کے ترجمان علی بہادری جہرمی نے پابندیوں کے غیر قانونی ہونے کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر کے بیان کو امریکہ کی ایک اور رسوائی قرار دیا ہے۔

حکومت ایران کے ترجمان علی بہادری جہرمی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے اپنے دورہ تہران کے اختتام پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے یک طرفہ اقدامات انسانی حقوق کے تمام ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔بہادری جہرمی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف عائد تمام غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کردینا چاہیے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بنیادی ضرورت کی اشیا، میڈیکل آلات اور حتی دوائیں بھی امریکہ کی غیر قانونی اور ظالمانہ پابندیوں میں شامل ہیں جس کے سبب ایرانی عوام اور خاص طور سے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو لاتعداد دشواریوں کا سامنا ہے اور انکی جانوں کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ نے امریکہ کی یکطرفہ اور ثانوی پابندیوں کے بارے میں اپنی خصوصی رپورٹر ایلینا دوھان کے دورہ ایران کے بارے میں تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ایلینا دوھان نے ایران میں اپنے بارہ روزہ قیام کے دوران مخصوص قسم کی بیماریوں میں متبلا مریضوں اور معذور لوگوں سے ملاقات اور دواؤں نیز ضرورت کے لازمی وسائل و آلات تک رسائی میں حائل مشکلات کے بارے میں انتہائی غم انگیز باتیں سنیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بوکھلاہٹ کا شکار امریکہ نے حزب اللہ پر مزید نئی پابندیاں عائد کردیں

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹرنے اپنے بیان میں یکطرفہ پابندیوں اوران کے اجرا میں انتہا پسندی سے کام لیے جانے کو انسانی حقوق اور احترام انسانی کے لئے ٹھوس خطرہ قرار دیا ہے۔ایلینا دوھان کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے تحت تمام ممالک، کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھانے کے پابند ہیں جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔

انہوں نے اس حوالے سے پابندیاں عائد کرنے والے تمام ملکوں، خاص طور سے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کا احترام کرے اور تمام یکطرفہ پابندیاں اور خاص طور سے ایسی پابندیاں ختم کرے جن سے ایرانی عوام کے بنیادی حقوق پامال اور ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی امریکہ سمیت ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے تمام ملکوں سے کہا تھا کہ وہ غذائی اشیا، دواؤں، پانی اور صحت سے متعلق معاملات پر اثر انداز ہونے والی تمام پابندیاں فی الفور ختم کردیں۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ایٹونیوگوترس نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں سے ایرانی عوام متاثر ہوئے ہیں اور ایران میں انسانی امداد کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

حالیہ عشروں کے دوران، اقتصادی پابندیوں کا معاملہ عالمی سیاست میں طاقتور ملکوں کے لیے، اپنے ناجائزمقاصد کو آگے بڑھانے اور دنیا کے آزاد اور خود مختار ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے ایک حربے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ سن نوے کے عشرے سے اب تک امریکہ، یورپی یونین اور دوسری ترقی یافتہ معیشتیں، دنیا کے دیگر ملکوں کے خلاف سیکڑوں بار اقتصادی پابندیاں عائد کرچکی ہیں ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button