امریکی پرنسٹن یونیورسٹی کا اسرائیل کے لیے کام کرنے پر کیٹرپلر کمپنی کا بائیکاٹ
شیعیت نیوز: ریاست نیو جرسی کی پرنسٹن یونیورسٹی میں پیر کے روز ایک قرارداد پر رائے شماری کی گئی جس میں یونیورسٹی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کیٹرپلر کمپنی کا بائیکاٹ کرے،کیونکہ یہ کمپنی اسرائیل کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور گاڑیاں” فراہم کرتی ہے۔
یونیورسٹی کے طلباء کی جانب رائے شماری اگلے بدھ تک جاری رہے گی۔اس دوران وہ فیصلہ کریں گے اگر پرنسٹن یونیورسٹی کو امریکی کمپنی کیٹرپلر کے تیار کردہ تعمیراتی آلات کا استعمال بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ قابض اسرائیل کو فلسطینی عوام پر ظلم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات فراہم کرتی ہے۔
یونیورسٹی کے طلبا نے گذشتہ مارچ میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا تھا کہ آیا ۔پرنسٹن کے انڈرگریجویٹ طلباء کو یونیورسٹی سے کیمپس کے جاری تعمیراتی منصوبوں پر کیٹرپلر کے تمام آلات کا استعمال فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے آلات کو فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اور تشدد کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مغربی ممالک خطے میں انسان سوز واقعات اور جرائم پرآنکھیں بند کئے ہوئے ہیں، سید زکی الساده
دوسری جانب یورپی یونین کے 15 رکن ممالک نے یورپی کمیشن سے فلسطین کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا، جسے کچھ نصابی کتب کے مواد پر تنازعہ، اور ان میں یہود مخالف تحریریں ہونے کے الزامات کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
امریکی اخبار پولیٹیکو نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ یورپی یونین کے ممالک کے ایک گروپ نے جس کی قیادت آئرلینڈ کررہا ہے نے فلسطین کے لیے یورپی یونین کی جانب سے 2021 کی امداد کی فراہمی میں مسلسل تاخیر پر عائد کردہ فنڈنگ شرائط کے پس منظر میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
امریکی اخبار کے مطابق یہ بات 15 ممالک کی طرف سے 8 اپریل کو یورپی کمیشن کو بھیجے گئے خط میں سامنے آئی ہے۔
خط پر آئرلینڈ، بیلجیم، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، یونان ، قبرصی انتظامیہ، لٹویا، لتھوانیا، لکسمبرگ، مالٹا، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے تھے۔
پیر کو لکسمبرگ میں یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کاروں کے اجلاس میں وزراء کی جانب سے بھی یہ مسئلہ اٹھانے کی توقع ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں نے فنڈز کو جلد سے جلد جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی اتھارٹی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہے جو یوکرین میں جنگ کی وجہ سے تیل اور گندم کی قیمتوں میں اضافے سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔







