انتخابی نتائج کے خلاف فرانس میں پرتشدد مظاہرے
شیعیت نیوز : فرانس میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، انتخابی نتائج کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ رن شہر میں ہوا جو پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ مشتعل مظاہرین نے درجنوں دکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
فرانس کے دیگر شہروں سے بھی انتخابی نتائج کے خلاف پرتشدد مظاہرے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ فرانس کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ابتدائی نتائج کے مطابق، موجودہ صدر امانوئیل میکرون کو اپنی حریف، میرین لوپن پر واضح برتری حاصل ہے۔
فرانسیسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ لوگوں نے حالیہ صدارتی انتخابات میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا اور ووٹنگ کے اعداد و شمار سے لوگوں کی عدم دلچسپی کی نشاندھی ہوتی ہے۔
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ چار کروڑ ستاسی لاکھ فرانسیسی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی شہر نیویارک کے ٹائمز اسکوائرپر زوردار دھماکہ
دوسری جانب اٹلی کے عوام نے مشرقی یورپ میں نیٹو کے توسیع پسندانہ اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا۔
ایران پریس کے مطابق، اتوار کی شام اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئے اور انہوں نے یوکرین میں جنگ ختم ہونے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ نیٹو کے اشتعال انگیز اقدامات کو یوکرین میں جنگ چھڑنے کی وجہ قرار دیا۔
مظاہرے میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت نیٹو کے دوسرے رکن ممالک یوکرین کو اسلحے کی سپلائی کے ذریعے جنگ کے شعلوں کو اور بھڑکا رہے ہیں۔
اٹلی کے عوام نے امریکہ کی پیروی میں یوکرین کو فوجی سازوسامان بھیجنے پر حکومت کی مذمت کی اور اس کے اس اقدام کو ملک کے آئین اور قومی مفاد کے خلاف بتایا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے میلان شہر میں نیٹو کے خلاف ریلی نکلی تھی جس میں ہزار کے قریب افراد شریک ہوئے۔ اس ریلی میں شامل لوگوں نے اٹلی میں امریکہ سمیت نیٹو کی فوجی چھاونیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
یوکرین میں 24 فروری سے شروع ہوئی جنگ کے وقت سے اب تک متعدد ملکوں نے کیف کو اسلحے بھیجے ہیں جس کی عوامی سطح پر مخالفت ہو رہی ہے۔







