امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ انتقال کر گئیں
شیعیت نیوز: امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ کینسر کے باعث 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
امریکہ کی پہلی خاتون وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ 84 برس کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر تھیں۔
البرائٹ پہلی امریکی وزیر خارجہ تھیں جنہوں نے 19 اگست 1953 کو ایران میں ہونے والی بغاوت میں اپنے ملک کے کردار کا باضابطہ طور پر اعلان کیا، لیکن سرکاری معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔
میڈلین البرائٹ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی حکومت میں ایک اہم شخصیت تھی جنہوں نے پہلے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور پھر بل کلنٹن کی صدارت کے دوسرے دور میں وزیر خارجہ کے طور پر منتخب ہوگئی انہوں نے نیٹو کی توسیع کی حمایت کی۔
انہوں نے 1997 سے 2001 تک وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ درحقیقت وہ امریکی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ویانا مذاکرات میں کچھ مسائل باقی ہیں، جیک سلیوان
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک نمائندہ کرس مورفی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ایران پر پابندیاں عائد کرنا اور مضبوط معاہدے کے لے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے نے امریکہ کی پوزیشن کو مزید خراب کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً تمام ریپبلکنز نے 2018 میں ٹرمپ کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے فیصلے کی حمایت کی تھی اور اسے کچلنے والی پابندیوں کی لہر کو دوبارہ متعارف کرایا تھا جسے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کہا جاتا ہے۔
مورفی نے کہا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار بنائے، لیکن اگر آپ کے پاس سفارت کاری نہیں ہے تو آپ انہیں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے کیسے روکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پچھلے معاہدے کو ترک کرنا ایک غلطی تھی، کیونکہ بظاہر اب ہم اس سے کہیں زیادہ مشکل پوزیشن میں ہیں جب ہم نے معاہدہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 18 مئی 2018 کو، ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے جوہری معاہدے کے مطابق ہٹائی گئی یا معطل کی گئی تمام پابندیوں کو بحال کیا۔







