یکساں نصاب تعلیم پرپیروان اہلبیت کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں کیا جائیگا، علامہ عابدالحسینی
شیعیت نیوز: تحریک حسینی کے سپریم لیڈر اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پیروان اہلبیت کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ شیعہ ہیں، جبکہ اہلبیت کے محبین بریلوی اور دیگر اہلسنت کل آبادی کا پچاس فیصد ہیں۔ انکے عقیدے کا خیال و لحاظ نہ رکھا گیا تو اسکا نتیجہ بہت ہی بھیانک ہوگا۔ شیعہ سڑکوں پر آئیںگے۔ سوشل بائیکاٹ اور سکولوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ایسی متنازعہ باتوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکتبِ تشیُع کے آئینی حقوق سلب کیے جانے کیخلاف ٹی این ایف جے کا پریس کلب لاہور کے سامنے ماتمی احتجاجی مظاہرہ
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے عوام کی کافی امیدیں وابستہ تھیں۔ خصوصاً ان کے اس دعوے کی وجہ سے کہ وہ ریاست مدینہ کا قیام عمل میں لائے گا۔ انہوں نے ظلم، غربت اور کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر کوئی بھی وعدہ ایفا نہ کرسکے، بلکہ الٹا قیام پاکستان سے رائج اسلامی دفعات تک کو بدلنے کی جسارت کر رہا ہے۔ جس طرح کہ سننے میں آرہا ہے کہ مجوزہ نصاب سے اہلبیت اطہار علیھم السلام کے ذکر کو نکال کر دشمنان اہلبیتؑ کو شامل نصاب کیا گیا ہے۔ تو ثابت ہو رہا ہے کہ یہ ناصبی اور دشمن اہلبیت ہے۔ تاہم شیعیان علی اس کے خلاف ملکی سطح پر بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اس کا راستہ روکیں گے۔







