ملک کے چپے چپے سے جارح قوتوں کو نکال کرہی چین سے بیٹھیں گے، بدر الدین الحوثی
شیعیت نیوز: یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے سکریٹری جنرل سید عبد الملک بدر الدین الحوثی کا کہنا ہے کہ دشمن اختلافات کو ہوا دے کر یمنی عوام پر تسلط قائم کرنا جاہتے ہیں۔
تحریک انصار اللہ کے سکریٹری جنرل سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے پیر کی شام صوبہ البیضاء کے ایک وفد سے ملاقات کی۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ البیضاء کے عوامی وفد سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ دشمن، یمن کے عوام میں اختلافات کے بیج بونے کی کوشش کر رہا ہے اور سعودی-اماراتی جارح اتحاد نے الحدیدہ میں وحشیانہ جرائم بھی انجام دیئے ہیں۔
تحریک انصار اللہ کے رہنما کے حوالے سے المسیرہ چینل نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی-اماراتی جارح اتحاد نے صوبہ البیضاء کو نشانہ بنایا اور عوام کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
سید عبد الملک الحوثی نے کہا کہ یمنی عوام کے درمیان ملاقاتیں اور گفتگو ہوتی ہیں اور اس سے یمنی قوم کے برادری، تعاون اور سمجھوتے کی حقیقی تصویر سامنے آتی ہے۔
یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے رہنما کا کہنا تھا کہ البیضاء میں تعاون مضبوط کرنے، اجتماعی صلح، سیکورٹی اور استحکام کے لئے موقع حاصل ہوا ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ملک کے چپے چپے سے جارح قوتوں کو نکال کرہی چین سے بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ہیومن رائٹس واچ کی سعودی عرب میں کم عمر بچوں کو تختہ دار پر لٹکا نے پر شدید تنقید
دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق مستعفی یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کے بھتیجے اور یمن کے مغربی ساحل پر تعینات ڈیموکریٹک گارڈز کے چیف طارق عبداللہ صالح عفاش نے قاہرہ میں اسرائیلی کینیسٹ کے ایک وفد سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔
عرب ای مجلے الخبر الیمنی کے مطابق یہ ملاقات قاہرہ میں واقع غاصب صیہونی حکومت کے سفارت خانے میں انجام پائی ہے جس میں بحر احمر کو صیہونی کنٹرول میں دینے پر گفتگو کی گئی۔
عرب ای مجلے نے طارق محمد عبداللہ صالح عیاش کے نزدیکی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یمنی آرمی چیف اور غاصب صیہونی حکام کے درمیان یہ کوئی پہلی ملاقات نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی وساطت سے ان ملاقاتوں کا سلسلہ ابوظہبی، ایتھوپیا اور یمن کے جزیرۂ میون میں قبل ازیں بھی جاری رہا ہے۔
الخبر الیمنی نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعید نہیں کہ یہ ملاقات یمن کے مغربی سواحل پر انجام پائی ہو کیونکہ غاصب صیہونی حکومت عرصہ دراز سے اس مقام پر، جو بحر احمر کا دروازہ محسوب ہوتا ہے، مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی فکر میں ہے جبکہ قبل ازیں عالمی میڈیا نے جزیرۂ میون کے اطراف میں بڑھتی صیہونی نقل و حرکت اور اس جزیرے پر اسرائیل کی جانب سے فوجی اڈہ قائم کئے جانے کی اطلاع دی تھی۔
واضح رہے کہ یمنی ڈیموکریٹک گارڈ فورسز کے چیف طارق محمد عبداللہ صالح عیاش کے ہاتھ میں نہ صرف یمن کے مغربی سواحل پر تعینات سعودی فوجی اتحادی فورسز بلکہ اماراتی فورسز کی کمانڈ بھی ہے۔







