عمران خان کے نئےپاکستان کا دوہرا معیار، 100 خطرناک طالبان دہشتگردرہا، درجنوں بےگناہ شیعہ مسنگ پرسنز لاپتہ
شیعیت نیوز: عمران خان کے نئےپاکستان کے دوہرا معیار، 100 خطرناک طالبان دہشتگردرہا، درجنوں بےگناہ شیعہ مسنگ پرسنز لاپتہ۔حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سیز فائر کے اعلان کے بعد 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے، جن میں اکثریت کا تعلق انٹرمنٹ سینٹرز سے ہے۔ ذمے دار اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے میڈیا کے ادارے کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت نے تحریک طالبان کے 100 سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
رہائی پانے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو حکومت کے قائم کردہ انٹرمنٹ سینٹرز میں اصلاح کے عمل سے گزر رہے تھے اور انھیں 6 ماہ کی اصلاحی عمل کی تکمیل سے پہلے رہا کر دیا ہے۔ رہائی پانے والے دیگر قیدیوں میں پیدل سپاہی شامل ہیں، سکیورٹی حکام کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ تحریک طالبان (جن کے ساتھ حکومت کے مذاکرات جاری ہیں) کے مطالبے پر نہیں کیا بلکہ طالبان کی جانب سے یکم نومبر کو سیز فائر کے اعلان کے بعد خیر سگالی کے طور پر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم وہابی دہشت گردتنظیموں کی خوشنودی کیلئے حکومت پاکستان نےیوٹیوب پر نشرنوحوں پر بھی پابندی عائد کروادی
سکیورٹی حکام نے میڈیا کے ادارے کو یہ بھی بتایا کہ ابھی تک حکومت پاکستان یا اس کے نمائندوں کے تحریک طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ مذاکرات کا سلسلہ دونوں طرف کیلیے قابل قبول مذاکرات کاروں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ ماضی کو دیکھ کر اپنی جانب سے کیا ہے اور طالبان کی جانب سے کوئی شرط نہیں عائد کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ افغانستان میں اگست کے مہینے میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے تحریک طالبان افغانستان کے کہنے پر تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ جس میں افغان طالبان نے پاکستانی طالبان کے مستقبل میں امن میں رہنے اور آئین پاکستان تسلیم کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جس کے بعد تحریک طالبان سے مذاکرات جاری ہیں۔ یکم نومبر کو تحریک طالبان نے سیز فائر کا اعلان کیا جس پر بدستور عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پوری قوم آواز اٹھائے!یمن میں سعودی عرب کے مظالم نے منگولوں اور تاتاریوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، مبشرلقمان
اعلیٰ سیکورٹی حکام کے مطابق تحریک طالبان کے مختلف دھڑوں سے بیک وقت مذاکرات جاری ہیں تاہم یہ مذاکرات ، مذاکرات کاروں کے ذریعے ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کبھی ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرنے والے اور کبھی نیا پاکستان بنانے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم عمران خان کی منافقت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی کہ اپنے ہی ملک کے 70 ہزار سے زائد بےگناہ شہریوں اور فوجیوں کو بے دردی سے شہید کرنے والے سفاک ترین طالبان دہشت گردوں کو آزاد کردیا گیا لیکن اہل بیت رسول علیہ السلام کے مقدس مزارات کا دفاع کرنے والے محب وطن پاکستانی شیعہ جوانوں کو خفیہ عقوبت خانوں میں کئی کئی سالوں سے جبری طور پر لاپتہ رکھا ہوا ہے ۔







