کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کا پشت پناہ اور سہولت کار ڈی ایس پی ماتلی خالد رستمانی تکفیری حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف
شیعیت نیوز: ملک دشمن کالعدم سپاہ صحابہ / لشکر جھنگوی کا پشت پناہ اور سہولت کار ڈی ایس پی ماتلی خالد رستمانی یکم محرم الحرام کو اہل بیت ؑ کے اقوال کے بینرز کی بےحرمتی اور شیعہ عزادار پر حملے میں ملوث تکفیری دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف، عدالتی حکم کے باوجود ملزمان کی گرفتاری میں لاپرواہی کا مظاہرہ ۔
تفصیلات کے مطابق شہر ٹنڈو غلام علی میں پہلی محرم 1443 ہجری بمطابق 10 اگست 2021 کوکالعدم سپاہ صحابہ کے سینکڑوں مسلح دھشتگردوں نے مجلس چوک پر حملہ کرکے اہل بیت ؑ کے پاک ناموں والے بینرز شہید کیے اور وہاں موجود اکیلے شیعہ جوان خالدحسین پر قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا، جس کی ایف آئی آر 13 معلوم اور 100 نامعلوم افراد پر درج ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مایہ ناز علمی شخصیت ،قومی سرمایہ،گوہر نایاب علامہ شیخ محمد حسن فخرالدین اعلی اللہ مقامہ رضائے الہیٰ سے انتقال کرگئے
بعد ازاں اس میں 8 افراد کی شناخت کرکےنام ایف آئی آر میں شامل کیے گئے، تمام ملزمان کی پہلے سیشن کورٹ اور اب ہائی کورٹ نے ضمانتیں رد کردی ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ SHO ٹنڈو غلام علی نے 21 میں سے صرف ایک مجرم کو گرفتار کیا وہ بھی جس دن واقعہ ہوا اس دن، اس کے بعد مسلسل SHO صاحب کو ملزمان کی گرفتاری کی گذارشات کی گئيں اور ملزمان کی نشاندہی کی گئی مگر افسوس کے انتظامیہ نے شیعیان حیدر کرارؑ سے کوئی تعاون نہیں کیااور باہر آزاد گھومنے والے ملزمان شیعہ مدعیان کو مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں جن سے انہیں شدید خطرہ ہے کیونکہ وہ پہلے بھی دن دہاڑے انکے اوپر حملہ آور ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی زائرین کیلئے بڑی خوشخبری، میرجاوہ بارڈر پر ’’زائر سرائے آستان قدس رضوی‘‘جیسے بڑے منصوبے کا افتتاح
اب جبکہ تمام ملزمان کی ہائی کورٹ نے بھی ضمانتیں رد کردی ہیں تو SHO ٹنڈوغلام علی، DSP ماتلی، SSP بدین، DIG حيدرآباد، IG سندھ ، رینجرز کے اعلی حکام، انٹيلیجنس کے ذمیداروں سے اور تمام بالا افسران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً اس بات کا نوٹس لیا جائے اور خدارا خدارا ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائےاور ضلع بدین کے شیعہ کمیونٹی کے اندر موجود بے چینی کو جلد ختم کیا جائے، بصورت دیگر وہ پر امن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہی متعصب ڈی ایس پی ماتلی دو برس قبل بدین کی تحصیل دمبولو میں بھی یوم عاشورا کے جلوس پر مقدمات درج کرکے عزاداروں کو حراساں کرنے میں ملوث رہا ہے ۔







