برصغیر پاک وہند کے معروف بزرگ شاعر جناب رضا سرسوی دارالبقاءکی جانب کوچ کرگئے

06 اپریل, 2021 11:58

شیعیت نیوز: موت کی آغوش میں جب تھک کہ سو جاتی ہے ماں جیسے شہرہ آفاق کلام کےخالق رضا سرسوی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، مرحوم رضا سرسوی پرصغیر پاک وہند میں اردو نوحہ ومنقبت نگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کو دنیا بھرمیں شہرت حاصل تھی، مرحوم اپنے دورہ ایران کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی دست بوسی سے بھی مشرف ہوئے ۔

تفصیلات کے برصغیر میں اردو علم وادب کا ایک اور روشن آفتاب ومہتاب ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا، ہندوستان سے تعلق رکھنے والے نامور بزرگ شاعر جناب نوشے رضا المعروف رضا سرسوی اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر دارالبقاء کی جانب کوچ کرگئے ہیں۔ مرحوم کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ان کے آبائی علاقے سرسی میں سپرد خاک کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک دشمن عناصرکروڑوں شیعہ سنی عوام کے دلوں کی دھڑکن ظفر عباس(JDC) کے خلاف سرگرم

مرحوم رضا سرسوی کئی مرتبہ پاکستان تشریف لائے اور متعدد محافل جشن و میلاد میں اپنے منفرد کلام پیش کیئے، پاکستان کے کئی ایک نامور نوحہ ومنقبت خوانوں نے آپ سے کلام لکھوائے۔

مرحوم رضاسرسوی صاحب نے انسانی رشتوں کی قدرو قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ماں کے بارے میں جو لافانی نظم یادگار چھوڑی ہے وہ ایک طرف ایک دردمند صاحب دل ہونے کی دلیل ہے تو دوسری طرف سماج کے تئیں انکے دقیق مطالعہ کی ترجمان،ایک ایسی نظم جسے پڑھ کر یا سن کر سماج کے ہر طبقہ کو اپنی ماں کا سراپا دکھائی دینے لگتا ہے اور اب یہ نظم ماں کے ایصال ثواب کے لیے منعقد ہونے والی ہر مجلس کی زینت ہوتی ہے اسی طرح باپ کی زحمتوں کی ترجمان نظم بھی سماج کے اس ذمہ دار حصہ کے درد کا احساس ہے جس کی قدر عام طور پر اس سے بچھڑنے کے بعد ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران چین شراکت داری امریکہ کیلئے چیلنج اور پاک ایران تعلقات کیلئے خوشی کا باعث ہے، سینیٹر مشاہد حسین

ایک بولتے ہوئے زندہ دل انسان کا اس طرح خاموش ہوجانا ایک باشعور انقلابی قلم کا رک جانا ایک بیدار کرنے والی فکر کا ٹھہرجانا دردناک ضرور ہے لیکن ایک طویل پاکیزہ اور متحرک زندگی بسر کرنے کے بعد اپنے ممدوحین کی عنایتوں کے جانفزا سایہ میں آرام تو بنتا ہے ایک عاشق کے لیے لذت وصال ہی اس کی آزمایشوں کا سب سے بڑا انعام ہے جس کے لیے انکی پاکیزہ روح قابل مبارکباد ہے اگرچہ بچھڑ جانے والوں کے لیے تو داغ جدائی صبر آزما ہی ہوتا ہے۔

رضا سرسوی صاحب اس دار فانی سے رخصت ہوگئے لیکن ان کا کلام ان کی زندگی کی علامت بن کر ہمیشہ عاشقان اہلبیت علیہم السلام کے دلوں کو گرمی پہونچاتا رہےگا اور رضا سرسوی صاحب کی پاکیزہ روح آنے والی نسلوں سے گویا کہتی رہےگی۔

جب تلک دہر میں آثار قلم زندہ ہیں
ہم پس مرگ بھی سمجھیں گے کہ ہم زندہ ہیں

6:07 شام مئی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔